بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حمل ساقط کرانے کی گناہ


سوال

چالیس دن کے اندر بچہ ضائع کرنےپر کتنا  گناہ ملتاہے۔

جواب

واضح رہے کہ عورت کو  اگر بچے  سے کسی شدید مضرت پہنچنے کا اندیشہ ہو جیسے حمل سے عورت کی جان کو خطرہ ہو   اور عورت کمزوری کی وجہ سے یہ حمل برداشت کرنے کے قابل نہ ہو  ،یا حمل سے عورت کا دودھ  بند ہو جائے جس سے پہلے بچہ کو نقصان ہو وغیرہ ان جیسے اعذار ہو اور کوئی مسلمان، دین دار  اور تجربہ کار ڈاکٹر  (گائنا لوجسٹ )حمل ساقط کرنے کی رائے دے تو ایسی صورت میں روح پڑنے سے  پہلے( جسکی مدت چار ماہ بنتی ہے )اسقاط حمل  کرنے کی گنجائش ہے اور  اگر کوئی عذر نہ ہوتو پھر بچہ گرانا مطلقا گناہ ہے خوا چالیس دن کے اندر ہو  یا اس  سے زائد دنوں کاہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها".

(فتاوی شامی،مطلب فی اسقاط الحمل،ج3ص: 176،ط:ایچ ،ایم سعید)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

”صورت مسئولہ میں حمل دو ڈھائی ماہ کے درمیان کا ہے ، اہلیہ کا کسی مسلمان دیندار تجربہ کار حکیم سے علاج کرائیں اگر ان کی رائے یہ ہو کہ عورت کی حالت بہت نازک ہے علاج سے اصلاح کی اور اچھا ہونے کی امید نہیں ہے اور آئندہ خطرہ ہے تو ایسی صورت میں حمل ساقط کرایا جاسکتا ہے اس بارے میں غیر مسلم ڈاکٹر کی رائے قابل عمل نہیں ، آپریشن کر کے بچہ دانی (رحم ) نکلوا کر ہمیشہ کے لئے خود کو اولاد کی نعمت سے محروم کر لینے کی کوشش کفران نعمت ہے، اور شریعت کے اعتبار سے یہ بات نکاح کے مقصد اور منشا کے خلاف ہے، کسی مسلمان دیندار تجربہ کار حکیم یا ڈاکٹر کا مشورہ ہو تو کچھ مدت کے لئے حمل کو رکوایا جا سکتا ہے مگر آپریشن کر کے ہمیشہ کے لئے صلاحیت تولید کو ختم کر دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ ہاں البتہ مسلمان دیندار تجربہ کار حکیم یا ڈاکٹر علاج کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ اب آپریشن کے سوا کوئی صورت نہیں ہے، عورت کی جان کو سخت خطرہ ہے تو ایسی مجبوری اور اضطرار کی صورت میں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے اس صورت میں بھی غیر مسلم ڈاکٹر کی رائے قابل عمل نہیں ہو سکتی “۔ 

(فتاوی رحیمیہ،کتاب الحظر ولاباحۃ،ج:10، ص:191ِ ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102303

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں