بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اسپتال کو زکوۃ کی رقم دینے کا حکم


سوال

کیا انڈس ہسپتال میں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ   ہمارے ہاں سے  اصولی طور پر کسی خاص ادارے یا فرد  کے نام سے فتویٰ جاری نہیں کیا جاتا؛ لہٰذا انڈس ہسپتال ہو یا کوئی بھی ادارہ اسے زکات دینے یا نہ دینے کا حکم یا تصدیق یہاں جاری نہیں کی جاسکتی۔  تاہم زکات کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے جو چیز ضروری ہے، اس کا حکم اصولًا لکھا جارہاہے، اس کی روشنی میں زکات دینے والا شخص خود جانچ کر اپنی ذمہ داری پر  کہیں بھی زکات ادا کرسکتا ہے۔

زکات ایک اہم فریضہ ہے، جس کی ادائیگی کے لیے ضروری ہےکہ اس کو اپنے مصرف پر یعنی مسلمان، غیرسیّد، غریب  جو صاحبِ نصاب نہ ہو، اس پر بطورِ تملیک (یعنی مستحقِّ زکوۃ کو مالک بناکر)   خرچ کیاجائے،  لہذا جس ادارے میں زکات کی رقم یا اس سے اشیاء (دوا وغیرہ) خرید کر مستحقِ زکات شخص کو مالک بناکر نہیں دی جاتیں، بلکہ زکات کی رقم تعمیرات، بیڈ، مشنری وغیرہ کی خریداری یا ڈاکٹر کی فیس وغیرہ میں بغیر تملیک صرف کی جاتی ہے وہاں زکات کی رقم دینا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کوئی ادارہ  و ہسپتال محض وکیل کے طور پر زکوۃ کی رقم وصول کرکے اہلِ سنت کے مقررہ مصارف میں متعینہ افراد  کی مکمل تحقیق وتفتیش کے بعد  زکات لینے والے  مسلمانوں کے  لیے ضروری احکام کی رعایت وضمانت کے ساتھ ان کی رضامندی سے ان کے علاج معالجہ پر   صرف (خرچ)  کرے تو ایسے ادارے کو زکات کی رقم وکیل بناکر  دینا جائز ہے۔ یعنی اگر ہسپتال انتظامیہ زکات کی رقم  یا دوا وغیرہ مستحق مریض  یا اس کے وکیل کو مالک بناکر ادا کردیتی ہے، یا مریض سے اجازت لے کر اس کی طرف سے بطور وکیل ڈاکٹر کی فیس ادا کی جاتی ہے تو اس طرح زکات ادا  ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره،

(قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة.

(قوله: كما مر) أي في أول كتاب الزكاة ط (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي (قوله: ولا إلى كفن ميت) لعدم صحة التمليك منه؛ ألا ترى أنه لو افترسه سبع كان الكفن للمتبرع لا للورثة نهر ." 

(كتاب الزكوة، ج:2، ص:344، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209201759

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں