بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

چاشت اور اشراق کا وقت، چاشت کے وقت میں اشراق کی نماز پڑھنے کا حکم


سوال

 چاشت کے وقت اگر اشراق کی نماز نہ پڑھی ہو تو پڑھ سکتے ہیں؟اور اشراق اورچاشت کا اخری وقت کون سا ہے زوال تک ہے یا اس سے پہلےکوئی اور وقت؟

جواب

اشراق کا ابتدائی اور اتنہائی وقت:

سورج نکلنے کے کم از کم دس منٹ بعد سے استواءِ شمس  (زوال سے پہلے) تک اشراق کی نماز کا وقت ہے، البتہ اشراق اول وقت میں پڑھنا افضل ہے، یعنی احتیاطًا سورج طلوع ہونے کے پندرہ بیس منٹ بعد پڑھی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

چاشت کا ابتدائی اور انتہائی وقت:

  اور چاشت کا وقت بھی  یہی ہے یعنی سورج طلوع ہونے سے لیے کر زوال سے پہلے تک ہے، البتہ اس کا افضل وقت مجموعی وقت کے ایک چوتھائی گزرنے کے بعد ہے، مثلًا: آج (24 ستمبر:2023 بروزِ اتوار)کو  سورج (6:21) منٹ پر طلوع ہوا، اور زوال کا وقت(12:24) منٹ پر ہوگا، تو طلوع ہونے سے لے کر زوال تک مجموعی ٹائم چھ گھنٹے تین منٹ ہوا، تو سورج طلوع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد سے(تقریباً 8:00 بجے کے بعد سے)  زوال سے پہلے تک جس وقت بھی چاشت پڑھے یہ افضل ہوگا۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ اشراق اور چاشت پڑھنے کا افضل وقت  اگرچہ مختلف ہے، لیکن دونوں نمازوں کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا وقت ایک ہی ہے، اسی لیے اشراق اور چاشت کی نماز ایک ہی وقت میں بھی پڑھی جاسکتی ہے، اور الگ الگ سورج طلوع ہونے سے لے کر زوال سے پہلے تک کسی بھی وقت میں پڑھ سکتے ہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) ندب (أربع فصاعداً في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال، و وقتها المختار بعد ربع النهار".

(کتاب الصلوۃ، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:22، ط:ایچ ایم سعید)

مرقاۃ المفاتیح شرحِ مشکوۃ المصابیح میں ہے :

"(ثم صل) أي صلاة الإشراق فإنها مبدأ الضحى أو صلاة الضحى، فإنها منتهية إلى قرب الاستواء".

(کتاب الصلوۃ، باب اوقات النہی، ج:2، ص:822، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503100756

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں