بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی سترہ رکعتوں، فجر کی دو سنتوں ،فرض نماز کے بعد دعا کا ثبوت اور فرض نماز کے بعد تسبیح پڑھنے کا حکم


سوال

1۔عشاء کی سترہ (17)رکعتیں قرآن وحدیث کے حوالوں کے ساتھ بتائیں؟

2۔فجر کی دو سنت فرض نماز کے وقت پڑھنا کہاں سے ثابت ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں۔

3۔فرض نماز کے بعد دعا کہاں سے ثابت ہے؟

4۔اور تسبیح فرض کے بعد فوراً کیوں نہیں پڑھ سکتے ؟

جواب

1۔ عشاء کی نماز میں مجموعی طورپر سترہ رکعتیں ہیں ، جن میں سے 9 رکعات لازمی ہیں، چار فرض، اس کے بعد دو رکعت سنت موٴکدہ اور  پھر تین رکعات وتر، تاہم عشاءکی فرض نماز  سے پہلے چار رکعت جو کہ سنت غیرموٴکدہ ہیں  صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہاں ان چار رکعتوں کے پڑھنے کا معمول تھا،اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو جو عمل  کرتے دیکھتے،  اسے اپنی زندگیوں میں لاتے تھے۔

چناں چہ ”قیام اللیل للامام المروزی“ میں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے:

"عن سعید بن جبیر -رحمہ اللہ- کانوا یستحبون أربع رکعات قبل العشاء الآخرة."

(قیام اللیل لمحمد نصر المروزي: ۱/۸۸، ط: فیصل آباد، باکستان)

نیز ”الاختیار لتعلیل المختار“ جو فقہ حنفی کی معتبر کتاب ہے، اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت نقل کی گئی ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے اورعشاء کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر آرام فرماتے۔

"عن عائشة أنه -علیه الصلاة والسلام- کان یصلي قبل العشاء أربعا ثم یصلي بعدہا أربعًا ثم یضطجع."

( الاختیار لتعلیل المختار،ج:1،ص:66،ط: بیروت)

البحر الرائق میں ہے:

"أما الأربع قبل العشاء فذكروا في بيانه أنه لم يثبت أن التطوع بها من السنن الراتبة فكان حسنا لأن العشاء نظير الظهر في أنه يجوز التطوع قبلها وبعدها كذا في البدائع ولم ينقلوا حديثا فيه بخصوصه لاستحبابه."

(کتاب الصلٰوۃ، باب الوتر والنوافل،الصلاۃ المسنونۃکل یوم،ج:2،ص:54،ط:دارالکتاب الاسلامی)

2۔ چوں کہ فجر کی سنتوں سے متعلق احادیث مبارکہ میں خصوصی تاکید آئی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد  فرمایا :"فجر کی سنت دو گانہ کو نہ چھوڑو ، اگرچہ  گھوڑے تمہیں روند ڈالیں"۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ :  "فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ان سب سے بہتر ہیں"۔

اس بناء پر  متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انہوں نے نماز فجر کی اقامت  ہونے کے بعد بھی فجر کی سنتوں کو ادا فرمایا ہے،چناں چہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے جماعتِ فجر شروع ہونے کے بعد یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جماعت شروع ہونے کے بعد سنتِ فجر ادا کرنا ثابت ہے۔  حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم سے بھی اسی طرح ثابت ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات اور ان کا عمل در اصل سنتِ رسول کی تشریح و توضیح کا درجہ رکھتے ہیں ؛ کیوں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ وہ سنتِ رسول کی خلاف ورزی کریں، اسی پس منظر میں ائمہ اربعہ میں سے امام ابوحنیفہ  اور امام مالک رحمہما اللہ کے نزدیک فجر کی جماعت کھڑی ہونے کے بعد بھی  فجر کی دو سنتیں ادا کی جائیں گی ۔

حنفیہ کے مسلک کی تفصیل یہ ہے کہ اگر فجر کی سنتوں کی ادائیگی کے بعد امام کے ساتھ فرض نماز کا قعدہ اخیرہ مل سکتا ہے تو  بھی سنت نہ چھوڑے۔ اگر اس کی بھی  امید نہ ہو تو پھر سنت اس وقت نہ پڑھے .

شرح مشكل الآثار (10/ 320،321)

"عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها."

 شرح مشكل الآثار (10/ 322)

"عن أبي عبد الله، قال: حدثنا أبو الدرداء، قال: " إني لأجيء إلى القوم وهم في الصلاة صلاة الفجر، فأصلي ركعتين، ثم أضطم إلى الصفوف۔ " وذلك عندنا -والله أعلم- على ضرورة دعته إلى ذلك، لا على اختيار منه له، ولا على قصد قصد إليه، وهو يقدر على ضده، وهكذا ينبغي أن يمتثل في ركعتي الفجر في المكان الذي يصليان فيه، ولا يتجاوز فيهما ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مما صححنا عليه هذه الآثار."

مصنف عبد الرزاق الصنعانی (2/ 445)

"عن هشام بن حسان، عن الحسن قال: إذا دخلت المسجد والإمام في الصلاة، ولم تكن ركعت ركعتي الفجر، فصلهما ثم ادخل مع الإمام، قال هشام: وكان ابن عمر، والنخعي يدخلان مع الإمام ولا يركعان حينئذٍ."

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا بيان بن عمرو، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبيدبن عمير، عن عائشةرضی اللہ عنہا، قالت: لم يكن النبي ﷺ على شيء من النوافل أشدّ منه تعاهدا على ركعتي الفجر."

(صحیح البخاري،  كتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر ومن سمّاهما تطوعا،ج:2، ص: 57،ط:بيروت)

ترجمہ:"حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفلوں میں سے کسی بھی نماز کا اتنا اہتمام نہیں فرماتے تھے جتنا فجر سے پہلے دو رکعتوں کا اہتمام فرماتے تھے۔"

حدیث شریف میں ہے:

"عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ : "لا تدعوھما وان طردتکم الخیل".

(سنن ابی داؤد،باب فی تخفیفھما،ج:1،ص:188،ط:رحمانیہ )

ترجمہ:" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فجر کی دو سنتوں کو نہ چھوڑو خواہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكذا يكره تطوع عند إقامة صلاة مكتوبة) أي إقامة إمام مذهبه ؛ لحديث: «إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة» (إلا سنة فجر إن لم يخف فوت جماعتها) ولو بإدراك تشهدها، فإن خاف تركها أصلاً۔

(قوله: إلا سنة فجر)؛ لما روى الطحاوي وغيره عن ابن مسعود: أنه دخل المسجد وأقيمت الصلاة فصلى ركعتي الفجر في المسجد إلى أسطوانة، وذلك بمحضر حذيفة وأبي موسى، ومثله عن عمر وأبي الدرداء وابن عباس وابن عمر، كما أسنده الحافظ الطحاوي في شرح الآثار، ومثله عن الحسن ومسروق والشعبي شرح المنية.
(قوله: ولو بإدراك تشهدها) مشى في هذا على ما اعتمده المصنف والشرنبلالي تبعاً للبحر، لكن ضعفه في النهر، واختار ظاهر المذهب من أنه لا يصلي السنة إلا إذا علم أنه يدرك ركعة، وسيأتي في باب إدراك الفريضة، ح. قلت: وسنذكر هناك تقوية ما اعتمده المصنف عن ابن الهمام وغيره."

(ردالمحتار علی الدر المختار ، کتاب الصلوٰۃ،ج:1،ص: 377،ط:سعید)

3۔فرض نماز کے بعد دعا کرنا ثابت ہے اور فرض نمازوں کے بعد کے اوقات حدیث شریف کے مطابق قبولیتِ دعاکے اوقات ہیں، فرائض کے بعددعاکرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اورسلف صالحین سے ثابت ہےاور دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے اور آں حضرت ﷺ سے بھی دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔

'المعجم الکبیر ' میں علامہ طبرانی رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ذکر کی ہے کہ محمد بن یحیی اسلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ،انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا کررہا تھا تو جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب تک نماز سے فارغ نہ ہوتے اس وقت تک (دعا کے لیے) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ( لہذا تم بھی ایسا ہی کرو)۔

المعجم الکبیر میں ہے:

"حدثنا محمد بن أبي يحيى، قال: رأيت عبد الله بن الزبير ورأى رجلاً رافعاً يديه بدعوات قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها، قال:(إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته)."

(المعجم الكبير للطبرانی 13/ 129، برقم: 324)

 اسی طرح ' کنزالعمال' میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوبندہ نمازکے بعدہاتھ اٹھاکراللہ تعالیٰ سے دعاکرتاہے اورکہتاہے کہ اے میرے معبود....اللہ تعالیٰ اس کی دعا کوضرورقبول فرماتے ہیں، اسے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹاتے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے سوال کیا کرو اور ہاتھوں کی پشت سے نہ کرو ،پس جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیر لو ۔

دعا میں ہاتھ اٹھانا حضور ﷺکی عادتِ شریفہ تھی ، حضرت سائب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب دعا فرماتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ مبارک اٹھاتے اور فارغ ہوتے تو ان دونوں کو اپنے چہرے پر پھیرتے۔

اس طرح کی روایات فرض نمازوں کے بعدہاتھ اٹھاکراجتماعی دعاکے ثبوت واستحباب کے لیے کافی ہیں ؛ اس لیے نماز کے بعد دعاپر نکیر کرنا یا اسے بدعت کہنا درست نہیں۔ تاہم اسے سنتِ مستمرہ دائمہ نہیں کہاجائے گا، اس بنا پراس کو ضروری اورلازم سمجھ کرکرنا،اورنہ کرنے والوں پرطعن وتشنیع کرنا بھی درست نہیں۔ اور یہ دعا سر اً افضل ہے، البتہ تعلیم کی غرض سے کبھی کبھار امام جہراً بھی دعا کرا سکتا ہے۔

حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے ' فیض الباری' میں اور محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھاہے کہ فرائض کے بعد موجودہ ہیئت کے مطابق اجتماعی دعا کرنا سنت مستمرہ تو نہیں ہے، لیکن اس کی اصل ثابت ہے ؛ اس لیے یہ بدعت نہیں ہے، اسے بدعت کہنا غلو ہے۔

جن فرضوں کے بعد سنت ہیں جیسے ظہر، مغرب اور عشاء ان میں بعد سلام فرض مختصر دعاء کرکے سنت ونوافل میں مشغول ہوجائیں اور جن فرائض کے بعد سنت ونوافل نہیں (جیسا کہ فجر وعصر ) ان میں بعد سلامِ فرض تسبیح فاطمہ سے فراغ پر قدرے طویل بھی دعاء کرلیں تو مضائقہ نہیں، پہلی صورت میں سنت ونوافل سے فارغ ہوکر اور فجر وعصر میں دعاء کے بعد منقول ماثور اوراد واذکار میں سے جو چاہیں پڑھ لیا کریں، کفایت المفتی جلد سوم میں بعنوان ”آٹھواں باب دعاء بعد نماز“ (از ص۳۲۹تا ص ۳۷۱، مطبوعہ زکریا بکڈپو دیوبند)

مزید دلائل کے لیے ”النفائس المرغوبة في الدعاء بعد المکتوبة “ مؤلفہ حضرت مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ کا مطالعہ فرمائیں۔

نیز  مزید تفصیل کے لیے دیکھئے امداد الفتاوی: ج:۱۔

4۔ فرض نمازوں کے بعد مختلف دعائیں اور اَذکار احادیث مبارکہ میں  رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں،  اُن میں سے بعض مختصر ہیں اور بعض طویل ہیں، اور حسبِ موقع اور ضرورت اُن سب کو یا اُن میں سے بعض کو نمازوں کے بعد پڑھنے کی اجازت ہے، البتہ  جن نمازوں کے بعد سننِ مؤکدہ ہیں، اُن میں طویل وظائف اور دعاؤں کا وقفہ نہ کرنا افضل ہے،  اِس لیے اَولیٰ واَفضل یہ ہے کہ فرض نماز کے بعد مختصر دعا کرکے سنن ادا کی جائیں اور بقیہ اَذکار سنتوں کے بعد پڑھے جائیں، اور سنتوں کے بعد پڑھے جانے والے اذکار بھی فرائض کی بعد ہی شمار ہوتے ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ جن نماز  کے بعد سننِ موکدہ نہیں ہیں، ان کے بعد اذکار اوراد پڑھنا مطلقاً جائز بلکہ مستحب ہے، اور جن نمازوں کے بعد سننِ موکدہ ہیں ان میں طویل اذکار کو  سنتوں کے بعد پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔  نیز یہ اس صورت میں ہے کہ فرض کے بعد اسی مقام پر سنتیں پڑھی جارہی ہوں، اگر سنتیں گھر میں پڑھنی ہوں تو راستہ میں یہ سب اذکار پڑھنا بھی مطلقاً جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره ‌تأخير ‌السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة؛ ويستحب أن يستغفر ثلاثا ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثا وثلاثين؛ ويهلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك

وفي الدر:(قوله إلا بقدر اللهم إلخ) لما رواه مسلم والترمذي عن عائشة قالت «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لا يقعد إلا بمقدار ما يقول: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» وأما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها؛ لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة.

وقول عائشة بمقدار لا يفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريبا، فلا ينافي ما في الصحيحين من «أنه - صلى الله عليه وسلم - كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» وتمامه في شرح المنية، وكذا في الفتح من باب الوتر والنوافل (قوله واختاره الكمال) فيه أن الذي اختاره الكمال هو الأول، وهو قول البقالي. ورد ما في شرح الشهيد من أن القيام إلى السنة متصلا بالفرض مسنون، ثم قال: وعندي أن قول الحلواني لا بأس لا يعارض القولين لأن المشهور في هذه العبارة كون خلافه أولى، فكان معناها أن الأولى أن لا يقرأ قبل السنة، ولو فعل لا بأس، فأفاد عدم سقوط السنة بذلك، حتى إذا صلى بعد الأوراد تقع سنة لا على وجه السنة، ولذا قالوا: لو تكلم بعد الفرض لا تسقط لكن ثوابها أقل، فلا أقل من كون قراءة الأوراد لا تسقطها اهـ.

وتبعه على ذلك تلميذه في الحلية، وقال: فتحمل الكراهة في قول البقالي على التنزيهية لعدم دليل التحريمية، حتى لو صلاها بعد الأوراد تقع سنة مؤداة، لكن لا في وقتها المسنون، ثم قال: وأفاد شيخنا أن الكلام فيما إذا صلى السنة في محل الفرض لاتفاق كلمة المشايخ على أن الأفضل في السنن حتى سنة المغرب المنزل أي فلا يكره الفصل بمسافة الطريق (قوله قال الحلبي إلخ) هو عين ما قاله الكمال في كلام الحلواني من عدم المعارضة ط (قوله ارتفع الخلاف) لأنه إذا كانت الزيادة مكروهة تنزيها كانت خلاف الأولى الذي هو معنى لا بأس (قوله وفي حفظي إلخ) توفيق آخر بين القولين، المذكورين، وذلك بأن المراد في قول الحلواني لا بأس بالفصل بالأوراد: أي القليلة التي بمقدار " اللهم أنت السلام إلخ " لما علمت من أنه ليس المراد خصوص ذلك، بل هو أو ما قاربه في المقدار بلا زيادة كثيرة فتأمل. وعليه فالكراهة على الزيادة تنزيهية لما علمت من عدم دليل التحريمية فافهم وسيأتي في باب الوتر والنوافل ما لو تكلم بين السنة والفرض أو أكل أو شرب، وأنه لا يسن عندنا الفصل بين سنة الفجر وفرضه بالضجعة التي يفعلها الشافعية (قوله والمعوذات) فيه تغليب، فإن المراد الإخلاص والمعوذتان ط (قوله ثلاثا وثلاثين) تنازع فيه كل من الأفعال الثلاثة قبل."

(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ الصلوٰۃ، ج:1، ص:530،ط:  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100435

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں