بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ایصال ثواب کی قربانی کو اپنی قربانی سے مقدم کرنا


سوال

کیا یہ ضروری ہے کہ آپ کی طرف کی قربانی مرحوم رشتہ دار کی طرف کی قربانی سے پہلے یا ساتھ ہو؟

(کیا ایصالِ ثواب والی قربانی اپنی قربانی سے پہلے یا ساتھ کرنا ضروری ہے؟ )

جواب

صورتِ مسئولہ میں  نفس قربانی عید کے تین دنوں میں کرنا ضروری ہے ، البتہ یہ ضروری نہیں کہ ایصال ثواب کی قربانی کو اپنی قربانی سے مقدم  یا  اس کے ساتھ کیا جائے ، بعد میں کریں تب بھی ایصالِ ثواب ہو جائے گا۔

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"وقت الاضحیة ثلاثه ایام، العاشر والحادي عشر،والثانی عشر، اولھا افضل واخرھا ادونھا، ویجوز في نھارها ولیلها.... والوقت المستحب للتضحیة.... وفي حق أهل المصر بعد الخطبة کذا في الظهیریة."

 (کتاب الاضحیۃ، الباب الثالث فی وقت الاضحیۃ، ج: 5، ص:295 ، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102468

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں