بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ارطغرل ڈراما دیکھنا


سوال

ارطغل ڈرامہ دیکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں کسی کام کے جائز ہونے کے لیے دو باتیں ضروری ہیں:

1۔  اس کام کا مقصد درست ہو یعنی شریعت کے خلاف نہ ہو ۔

2۔  اس مقصد کے لیے جو  ذریعہ استعمال کیا جائے وہ بھی درست ہو یعنی  شرعاً جائز ہو ۔

پس اگر کام   نیک مقصد والا ہو ، مگر  اس کے حصول کا  سبب و طریقہ ناجائز ہو جیسا  کہ مذکورہ ڈراما، اگرچہ اس کا ظاہری مقصد  ممکنہ طور پر  اچھا ہے، لیکن چوں کہ خود ڈراما سازی (  جو کہ مقصد کا ذریعہ ہے، وہ) کئی ناجائز و حرام امور (جیسے تصویر کشی، مرد و زن کے اختلاط اور نامحرم کے دیکھنے ، موسیقی اور  بعض خلافِ واقعہ و حقیقت باتیں تاریخ کا حصہ بنانے) پر مشتمل ہے،  لہٰذا ان وجوہات کی بنا پر مذکورہ ڈراما یا کوئی بھی ڈراما  دیکھنا اور اس کی تشہیر ناجائز ہے۔

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{ومن الناس من یشتري لهو الحدیث لیضل عن سبیل اللّٰه بغیر علم ویتخذها هزوا ، اولئک لهم عذاب مهین} [لقمٰن :۶]

بخاری شریف میں ہے:

"[عن] عبد الله قال: سمعت النبي ﷺ یقول: ’’إن أشد الناس عذاباً عند الله المصورون‘‘. (کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامة، ٢ / ٨٨٠)

الدرالمختار میں ہے:

"(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام:  «كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة: ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه». (ج:۶  / ۳۹۵ ط:سعید) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں