بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عقد نکاح میں وکیل کا موکل کی طرف نسبت کرنا


سوال

عقد ِ نکاح میں کیا موکل کا وکیل کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے؟

جواب

غالبًا آپ نے سوال عکس کردیا ہے، اور بظاہر آپ  کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ عقد نکاح میں وکیل  کا موکل  (دلہن، یا دولہا) کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ  ایسا کرنا ضروری ہے،  ورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔  فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144204200338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں