بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

انگلینڈ میں مورگیج پر مکان لینا


سوال

اسلام میں سود لینے والے کے بارے میں تو صاف ہے، لیکن مجبوراً بینک سے رقم لینے کے بعد سود کے ساتھ واپس کرنے والے کے لیے کیا احکامات ہیں؟ اور اگر موڈگیج پر گھر لیا ہو  انگلینڈ میں؛ کیوں کہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بینک کو رقم واپس کرتے ہوئے سود بھی دینا پڑتا ہے۔

جواب

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں   جس میں سود کا لینا اور دینا دونوں شامل ہے، یعنی جس طرح سود پر قرضہ دینا حرام ہے، اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، لہذا اس قسم کے قرضہ لینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

ہاؤس مورگیج (mortgage) ایک سودی قرضہ ہے، جو  بینک  گھر خریدنے میں تعاون کے لیے رقم دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں، اس کا لین دین جائز نہیں ہے،   سود کا معاملہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، بے شمار قرآنی آیات اوراحادیث میں اس کی شناعت اور قباحت ذکر ہوئی ہے، لہذا انگلینڈ  میں ہاؤس مورگیج کے ذریعے گھر خریدنا جائز نہیں ہے۔

اگر وہاں رہائش کی صورت میں  گھر خریدنا ضروری ہی ہو تو کسی سے غیر سودی قرض لینے کی کوشش کیجیے؛ تاکہ سود کی لعنت سے بچ سکیں۔

پھر  اگر کسی ملک میں مسلمان کے لیے حلال سے اپنی ضروریات پوری کرنا ناممکن یا مشکل ہوجائے تو مسلمان کو چاہیے کہ ایسے ملک میں منتقل ہوجائے جہاں شرعی احکام پر چلنا آسان ہو، خصوصاً جب کہ یورپ میں رہنے والا وہاں کا اصل باشندہ نہ ہو تو اس کے لیے صرف کسبِ معاش یا دنیاوی معیارِ زندگی بلند کرنے کی خاطر  وہاں جانا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جر  منفعۃ، کتاب الحوالہ، ط؛ ادارۃ القرآن) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201565

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں