بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

امام رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمده کہے گا، تو مقتدی بھی سمع اللہ لمن حمده کہے گا یا نہیں؟


سوال

ایک شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے، جب امام رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہے گا، تو مقتدی بھی سمع اللہ لمن حمدہ کہے گا یا نہیں؟ وضاحت فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ امام رکوع سے اٹھتے ہوے جب "سمع اللہ لمن حمدہ" کہے گا،تب مقتدی صرف "ربنالک الحمد" کہے گا، مقتدی  امام کی اقتداکرتے ہوے "سمع اللہ لمن حمدہ" نہیں کہے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فإن ‌كان ‌مقتديا ‌يأتي ‌بالتحميد ‌لا ‌غير ‌عندنا ..... (ولنا) أن النبي صلى الله عليه وسلم قسم التسميع والتحميد بين الإمام والمقتدي وفي الجمع بينهما من الجانبين إبطال القسمة وهذا لا يجوز،ولأن التسميع دعاء إلى التحميد وحق من دعي إلى شيء الإجابة إلى ما دعي إليه لإعادة قول الداعي."

‌‌(كتاب الصلاة،فصل في سنن حكم التكبير أيام التشريق،198/1، سعيد)

فتاوى هندیہ میں ہے:

"فإن كان إماما يقول سمع الله لمن حمده بالإجماع وإن كان مقتديا يأتي بالتحميد ولا يأتي بالتسميع بلا خلاف وإن كان منفردا الأصح أنه يأتي بهما. كذا في المحيط وعليه الاعتماد. كذا في التتارخانية وهو الأصح. هكذا في الهداية ."

(كتاب الصلاة،الباب الرابع في صفة الصلاة،الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها، 74/1، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144505100934

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں