بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1443ھ 16 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

امام کے کی اقتدا میں مقتدی کا قراءت اور تکبیر وتسبیح کہنے کا حکم


سوال

1- نماز جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہوں تو امام فاتحہ پڑھتے ہیں تو کیا ان کے ساتھ فاتحہ پڑھنی چاہیے ؟

2-  امام صاحب نماز میں تکبیر کہتے ہیں تو ہم بھی تکبیر کہیں گے؟

جواب

1- امام اور منفرد کے لیے ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے سوائے فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے،  نماز  چاہے  جہری ہو یا سرّی ہو،جیسے کہ حدیث شریف میں ہے  کہ آپﷺ نے فرمایا: سورہ فاتحہ پڑھے بغیر نماز ہی نہیں، البتہ جماعت کی نماز میں امام چوں کہ مقتدیوں کا ضامن ہوتا ہے، اور مقتدیوں کو امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع کیاگیاہے، لہٰذا جماعت کی نماز میں امام جو قراءت کرتا ہے وہ جماعت میں شامل تمام مقتدیوں کی جانب سے  قراء ت شمار ہوتی ہے؛ اس لیے جماعت کی صورت میں بھی نماز  سورہ فاتحہ کے ساتھ ہی  ہوتی ہے اور  جماعت چاہے  سرّی(یعنی ظہر، عصر کی نماز) ہو یا جہری(یعنی فجر، مغرب، عشاء کی نماز ہو) بہرحال  تمام رکعتوں میں مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے، نیز امام کی اقتدا  میں مقتدی کا قراءت کرنا مکروہِ  تحریمی ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

﴿ وَإِذَا قُرِیَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَه وَأَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾(الأعراف: ۲۰۴)

ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگاکر سنو، اور توجہ کے ساتھ بالکل خاموشی اختیار کرو، تاکہ تم پر اللہ تعالی کی رحمت نازل ہو۔

حدیث شریف  میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كان له إمام فقراءة الامام له قراءة."

(شرح معاني الآثار  للامام الطحاوي، باب القراءة خلف الامام، رقم الحديث:1192، ج:1، ص:217، ط:دارالكتب العلمية)

ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر وہ شخص جس کا امام ہو تو امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔

2-  مقتدی کو صرف قراءت کے موقع پر خاموش رہنے کا حکم ہے،  قراءت کے علاوہ تکبیر اورتسبیح کے مواقع میں مقتدی کو  خاموش رہنے کا حکم نہیں،   بلکہ تکبیرِ تحریمہ تو مقتدی پر بھی کہنا فرض ہے،  اور تشہد اور سلام مقتدی پر بھی واجب ہے، اور ثناء، درود شریف اور دعائیں نیز  دیگر مواقع  میں تکبیرات اور رکوع وسجدہ  میں تسبیح  اور قومہ میں ربنالك الحمد کہنا مقتدی کے لیے بھی مسنون ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں