بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1445ھ 11 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

اعلان فوتگی سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں فوتگی کے اعلان سے پہلے قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھنے کا رواج ہے،  جس سے مقصد لوگوں کو متوجہ کرنا ہوتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ طریقہ شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا یا  اس کو سُننا بذاتِ خود انتہائی مستحسن امر اور  باعثِ خیر و برکت ہے، لیکن     اس کی اہمیت و عظمت  کے مطابق  اس کے آداب کی رعایت رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔اگر قرآنِ پاک پڑھنے  سے اللہ کا ذکر اور تلاوت یا لوگوں کی نصیحت مقصود نہ ہو، بلکہ محض اعلانات کے لیے یا لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے اسے پڑھا جائے تو یہ قرآنِ کریم  کی بے ادبی کے مترادف ہوگا۔ 

لہٰذا اعلانِ فوتگی سے پہلے لوگوں کو اعلان کی طرف متوجہ کرنے کی غرض سے تلاوتِ قرآنِ پاک کے بجائے، ایسے فقرے استعمال کرلیے جائیں جن سے لوگوں کی توجہ حاصل ہوجائے۔

نیز  قرآنِ مجید کے آداب  میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسی جگہ جہاں اندیشہ ہو کہ اگر قرآنِ کریم کی تلاوت بآوازِ  بلند کی جائے تو سننے والے لوگوں میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو اپنے دیگر کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے اس کو اہمیت دے کر نہیں سُن سکیں گے اور تلاوتِ قرآن پاک کی ناقدری اور بے توقیری کا اندیشہ ہو تو ایسی جگہوں میں تلاوت بآوازِ بلند کرنے کے بجائے آہستہ آواز سے کرنی چاہیے؛ تاکہ قرآنِ کریم کی بے قدری کی صورت ہی پیش نہ آئے۔

لہٰذا فوتگی کے اعلان سے پہلے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی کسی سورت کی تلاوت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس میں مختلف خرابیاں پائی جاتی ہیں: مثلاً علاقہ یا بازار جہاں مسجد ہے وہاں لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، اور ہر کسی کے لیے ہر وقت ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اعلان کی طرف توجہ کرسکے، ایسی صورت میں اگر اعلان سے پہلے قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے تو اعلان کرنے والا قرآنِ کریم کی بے توقیری کا سبب بن رہا ہے اور  جو شخص اپنے کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے قرآنِ کریم کی تلاوت کو اہتمام سے نہیں سُن سکتا وہ بھی بے احترامی کا مرتکب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144206200212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں