بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتكاف کی حالت میں ایک مسجد سے دوسری مسجد جانا


سوال

میں جس مسجد میں اعتکاف کر رہا ہوں اس میں5 لوگ ہیں اور ساتھ والی مسجد میں کوئی بھی نہیں ہے تو کیا میں دوسری مسجد میں جا سکتا ہوں اعتکاف کی حالت میں؟

جواب

واضح رهے کہ رمضان کا اعتکاف شروع کرنے سے واجب ہوجاتا ہے، اور بغیر کسی شرعی عذر کے مسجد سے نکل نے سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے، چنانچہ ایک مسجد سے دوسری مسجد جانا   بغیر کسی عذر کے یہ بھی اعتکاف کو فاسد کردےگا۔

فتاوی تاتاخانیہ میں ہے:

"ولا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ولا نهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه فى قول أبى حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لايفسد، حتى يكون أكثر من نصف يوم. ومن الأعذار: الخروج للغائط والبول ولأداء الجمعة."

(الفتاوى التاتارخانية: كتاب الصوم، الفصل 12 الإعتكاف، ج:3 ص:444، ط: مكتبة زكريا ديوبند)

وايضا: "ولو انتقل من مسجد إلى مسجد من غير عذر انتقض اعتكافه عند أبی حنیفة."

(الفتاوى التاتارخانية: كتاب الصوم، الفصل 12 الإعتكاف، ج:3 ص:446، ط: مكتبة زكريا ديوبند)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509102243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں