بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے کی ذاتی کمائی سے بنائی ہوئی جائیداد میں دیگر بیٹوں کا حصہ نہیں ہے


سوال

بیٹے نے اپنے والد کی خالی دکان جس میں کوئی کاروبار وغیرہ نہیں ہوتاتھا اپنا کام شروع کےلیے اس کا کرایہ بھی خود اداکیا،اور اس میں  کاروبار شروع کرنے کےلیے والد سے قرض لیاجو کہ والد نے کسی رشتہ دار سے منافع کی شرط کے ساتھ لیا جو سود کی شکل میں 18فیصد کے حساب سے تھا، بیٹے نے اپنے والد کو وہ قرض 2سال کے بعد منافع (سود) کے ساتھ لوٹادیا، پھر اس کاروبار سے 9سال کے بعد ایک گھر لیاجو ٹیکس سے بچنے کےلیے والدہ کے نام کردیا، اب والد اور والدہ دونوں کا انتقال ہوگیاہےان کے انتقال کے بعد یہ گھر کس کا ہوگا؟ورثاء میں دوبہن اور دوبھائی ہیں۔

وضاحت: دکان والد کی تھی جو بیٹے نےکرایہ پر لی ہوئی تھی، بیٹے نے والد سے قرض سے لے کر کاروبار شروع  کیاتھا، اور اس سے پہلے ہی بیٹے کا حساب کتاب الگ تھا، سارا کاروبار بیٹے کا تھا والد کانہیں تھا، گھر لے کر بیٹے نے والدہ کے نام خود کیا تھا اور اس کی ادائیگی بیٹے نے خود کی تھی، اور بیٹے  کے پاس ان باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ  بیٹاجس نے اپنی کمائی اور سرمایہ سے مکان خریدا اور خرید کرصرف ٹیکس سے بچنے کےلیے اپنے والد کے نام کردیاباقاعدہ کوئی ہبہ یاگفٹ نہیں کیاتھا تو مذکورہ مکان کا مالک بیٹا ہے  اس میں والد کا کوئی حصہ نہیں ہے اسی طرح والد کے انتقال کے بعد اس بیٹے کے علاوہ والدکے کسی او ر بیٹے یابیٹی کا حصہ نہیں ہے۔

باقی بیٹے کا والد کے ساتھ سودی قرض کا لین دین جائز نہیں تھا، اب اس پر توبہ و استغفار کرے اور والد کے لیے بھی استغفار کرتا رہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"إعلم أن أسباب الملك ثلاثة :ناقل كبيع وهبة خلافة كإرث وأصالة،وهو الاستلاء حقيقة ّ بوضع اليد أو حكماّبالتهيئة كنصب شبكةالصيد لا لجفاف على المباح الحالي عن مالك ،فلو استلوى في مفازة على حطب غيره لم يمكله ولم يحل للمقلش مايجده بلاتعريف  وتمام التفريع في المطولات."

(کتاب الصید،ج:6،ص:463،ط:سعید)

البحرالرئق میں ہے:

"لو قال ‌جعلته ‌باسمك لا يكون هبة."

(كتاب الهبة،ج:7،ص:285،ط:دارالكتاب الإسلامي)

فتاوی مفتی محمود میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

"جو جائیداد اس ایک بھائی نے اپنی مخصوص کما ئی سے خرید رکھی ہےوہ جائیداد اس ایک ہی کی ملکیت متصور ہوگی۔"

(کتاب الشرکۃ،ج:8،ص:158،ط:جمعیۃ پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404102043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں