بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

ایجاب وقبول کے بغیر لڑکی سے خالی کاغذ پر دستخط لینے کی صورت میں نکاح کا حکم


سوال

ایک لڑکے اور اس کی بہنوں نے دھوکہ دہی کے ذریعہ میری بیٹی سے کورٹ میرج کرلیا،مجھے اور میری بیوی  بچوں اس کا علم نہیں تھا، گھر میں کوئی مرد نہیں تھا تووہ یہ کہ کر میری بیٹی کو لے گئے کہ آپ کا بے نظیر انکم سپورٹ کا کارڈ بنواتے ہیں،اس طرح میری بیٹی سے ایک خالی  اسٹامپ پیپر  پر  دستخط لے لیے گئے،میری بیٹی سے کوئی اجازت لی گئی تھی اور نہ ہی باقاعدہ ایجاب وقبول ہوا تھا،نہ کوئی نکاح نامہ وغیرہ بنوایا گیا تھا،جب ہمیں پتہ چلا تو ہم نے لڑکے کو کہا کہ اپنے گھر والوں کو لاؤ،شرعی طریقہ سے نکاح کرتے ہیں، لیکن وہ نہ آیا،اس معاملہ کو تین سال ہوگئے ہیں، اور میری بیٹی گھر پر بیٹھی ہوئی ہے،کیا یہ نکاح شرعاً معتبر ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے منعقد ہونے کے لیے  دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرنا ضروری ہے،یعنی گواہ دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں،ان کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرنے سے نکاح  منعقد ہوجاتا ہے،لہٰذا صورت مسئولہ میں  سائل کے بیان کے مطابق اگر واقعۃً مذکورہ شخص نے ان کی بیٹی سے گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول نہیں کیا،بلکہ صرف خالی کاغذ پر دستخط لے لیے تو اس سے شرعا نکاح منعقد نہیں ہوا، سائل کی بیٹی کسی اور جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر."

 (کتاب النکاح،ج3،ص9،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"(و) شرط (حضور) شاهدين  (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)ــ على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة."

     (کتاب النکاح،ج3،ص21۔23،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100201

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں