بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز میں تکبیرات زوائد کی مشروعیت کی وجہ!


سوال

 عید کی نماز میں زائد چھ تکبیر کیوں  کہی جاتی ہیں؟ اس کی کوئی علت ہے؟ اگر ہے تو برائے کرم جواب دیجیے!

جواب

واضح رہے عید کی نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ ہر رکعت میں تین تین تکبیرات زوائد واجب ہیں، اور ان تکبیروں کو زوائد اسی وجہ سے کہتے ہے کہ یہ چھ تکبیریں تکبیرتحریمہ، رکوع وغیرہ سے زائد ہیں۔

بصورتِ مسئولہ عید کی نماز بھی من جملہ عبادات میں سے ہے، اور عبادات کی مشروعیت توقیفی ہوتی ہے، یعنی اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، جس میں عقل اور فلسفہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا، اللہ تعالی کی طرف سے فعل جس طرح  کرنے کاحکم دیا گیا ہے،بندے پر اس حکم کو کسی علت کے تلاش  کیے بغیر اسی طرح  بجالانا ضروری ہوتا ہے، لہذا عید کی نماز میں چھ زوائد تکبیرات مختلف نصوص میں حضور اکرمﷺ سے ثابت ہیں، اسی بنا پرحکم توقیفی ہونے کی وجہ سے یہ مشروع ہے؛ جس کے لیے کسی علت کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے عید کے دن تکبیر (اللہ کی بڑائی بیان کرنے) کا حکم دیا ہے:

{و لتکبروا الله على ماهداكم}

ترجمہ: اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی ۔

عیدین کے دن صبح سے عیدین کی نماز کی ادائیگی تک کثرت سے تکبیرات پڑھنے کی ترغیب ہے، نمازِ عید کے لیے آتے جاتے وقت، عیدین کے خطبوں میں اور ایامِ تشریق میں نیز عیدالاضحیٰ  کی نماز کے بعد بھی تکبیرات بلند کرنے کا مسلمانوں کو حکم ہے، در حقیقت یہ خداوند تعالیٰ کی بڑائی و بزرگی کا اعلان ہے، اور عبادات کی تکمیل اور خوشی کے موقع پر انسانوں کا اللہ تعالیٰ کی اس طرح تکبیر پڑھنا فرشتوں کے سامنے انسان کی فضیلت کا اظہار اور تخلیقِ آدم سے پہلے فرشتوں کے اس سوال کا جواب بھی ہے، نیز شیطان مردود اور اس کی ذریت کی رسوائی کے لیے بھی، کہ میرے بندے اپنی خوشی کا اظہار بھی میری بڑائی کے اعلان سے کر رہے ہیں، اسی حکمِ تکبیر کی مناسبت سے نمازِ عیدین میں بھی تکبیرات کا اضافہ کیا گیا ہے۔  

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله: ويصلي الإمام بهم  مثنيا قبل الزوائد) ...وسميت زوائد لزيادتها عن تكبيرة الإحرام والركوع وأشار إلى أن التعوذ يأتي به الإمام بعدها لأنه سنة القراءة.

(باب العيدين، ج:2، ص:172، ط:ايج ايم سعيد)

القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة  میں ہے:

الأصل في العبادات التوقيف.

التوضيح

لايكلف الإنسان بعبادة إلا بعد تشريعها من الله تعالى، وبيان كيفيتها، ولذلك يحظر القيام بعبادة إلا بعد بيانها من الشرع، فلا يشرع منها إلا ما شرعه الله تعالى ورسوله، ولذلك كانت العبادات توقيفية، أي يتوقف الإنسان فيها حتى يأتي البيان والكيفية من الشارع مباشرة، ولا يقاس عليها. والأصل في ذلك قوله صلى الله عليه وسلم :"صلوا كما رأيتموني أصلي.

وقوله عليه الصلاة والسلام:"خذوا عني مناسككم .

ولذلك كان الصحابة رضوان الله عليهم يتوقفون في أداء العبادات حتى يسألوا عنها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، لأنه لا يشرع من العبادة إلا ما شرعه الله ورسوله.

(القاعدة:[201]الأصل في العبادات الحظر، وفي العادات الإباحة، ج:2، ص:769، ط:دارالفكر.بيروت)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144201201312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں