بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز ادا نہ کرسکنے کی صورت میں قربانی کا حکم


سوال

اگر کسی نے عیدالاضحی کی نماز ادا نہ کی ہو تو کیا اس کی قربانی جائز ہو گی؟

جواب

عيد  كي نماز ادا كرنامسلمانوں پر واجب هے، بلاعذر عيد كي نماز  چھوڑنے والا گناہ گار ہوگا، تاہم اگر کسی نے عید کی نماز ادا نہ کی ہو  تو اس کے لیے  شہر میں کسی بھی جگہ عید الاضحی کی نماز ہونے کے بعد  اور دیہات میں   صبح صادق کے بعد  قربانی کا جانور ذبح کرلینے سے  قربانی ادا ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 318):

"(وأول وقتها) (بعد الصلاة إن ذبح في مصر) أي بعد أسبق صلاة عيد، ولو قبل الخطبة لكن بعدها أحب وبعد مضي وقتها لو لم يصلوا لعذر، ويجوز في الغد وبعده قبل الصلاة لأن الصلاة في الغد تقع قضاء لا أداء زيلعي وغيره (وبعد طلوع فجر يوم النحر إن ذبح في غيره).

 (قوله: إن ذبح في غيره) أي غير المصر شامل لأهل البوادي، وقد قال قاضي خان: فأما أهل السواد والقرى والرباطات عندنا يجوز لهم التضحية بعد طلوع الفجر، وأما أهل البوادي لا يضحون إلا بعد صلاة أقرب الأئمة إليهم اهـ وعزاه القهستاني إلى النظم وغيره وذكر في الشرنبلالية أنه مخالف لما في التبيين ولإطلاق شيخ الإسلام".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144212200964

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں