بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

عید الاضحیٰ کے پندرھویں دن قربانی کے جانور کے پائے کھانا


سوال

کیا عید الاضحی کے پندرہویں دن قربانی کے جانور کے پائے کھانا سنت ہے، اگر ہے تو کوئی حدیث کا حوالہ مل جائے گا؟

جواب

جانور کے پائے کھانا جائز ہے،  رسول اللہ ﷺ سے   قربانی کے جانور کے پائے کھانا بھی ثابت ہے، البتہ تخصیص کے ساتھ عید الاضحیٰ کے پندرھویں دن پائے کھانے کو سنت نہیں کھا جاسکتا، اس سلسلہ میں  جو روایت وارد ہے کہ  اس کا مقصد  پندرھویں دن پائے کھانے کی تخصیص نہیں ہے، بلکہ  سائل کے سوال کے جواب میں پیش آمدہ واقعہ کی تفصیل کا بیان ہے جس سے  اس مسئلہ کا شرعی حکم واضح  کرنا مقصود ہے کہ قربانی کا گوشت محفوظ رکھنا اور  تین دن کے بعد کھانا بھی جائز ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت  میں آتا ہے کہ:

”عبدالرحمٰن بن عابس اپنے والد   عابس سے روایت کرتے ہیں،   انہوں نے کہا کہ  میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا:  کیا قربانی کا گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ تک کھانے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا:  آپ نے اُس سال ایسا کرنے سے منع کیا تھا جب لوگ محتاج تھے،  آپ کا مطلب ایسا حکم دینے سے یہ تھا کہ مال دار لوگ محتاجوں کو ( یہ گوشت)  کھلادیں اور ہم بکری کے پائے اٹھا رکھتے،  پندرہ (پندرہ)  دن بعد اس کو کھاتے،  عابس نے کہا: کیوں ایسی کیا ضرورت تھی؟  (کیوں کہ عرب میں پائے زیادہ قیمتی غذا نہیں سمجھی جاتی تھی) یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا ہنسیں اور  پھر کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالوں کو کبھی برابر تین دن تک گیہوں  کی روٹی، سالن کھانے کو نہیں ملا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔“ 

صحيح البخاري (7/ 76):

"عن عبد الرحمن بن عابس، عن أبيه، قال: قلت لعائشة: أنهى النبي صلى الله عليه وسلم أن تؤكل لحوم الأضاحي فوق ثلاث؟ قالت: «ما فعله إلا في عام جاع الناس فيه، فأراد أن يطعم الغني الفقير، وإن كنا لنرفع الكراع، فنأكله بعد خمس عشرة» قيل: ما اضطركم إليه؟ فضحكت، قالت: «ما شبع آل محمد صلى الله عليه وسلم من خبز بر مأدوم ثلاثة أيام حتى لحق بالله»".

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (4/ 431):

"عن عائشة، قالت: لقد كنا نرفع الكراع فيأكله رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد خمس عشرة من الأضاحي".

فتح الباري لابن حجر (9 / 553):

 "وغرض البخاري منه قولها وإن كنا لنرفع الكراع إلخ فإن فيه بيان جواز ادخار اللحم وأكل القديد وثبت أن سبب ذلك قلة اللحم عندهم بحيث إنهم لم يكونوا يشبعون من خبز البر ثلاثة أيام متوالية."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں