بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عید کے دن کیے جانے والے مختلف اعمال اور ان کی شرعی حیثیت


سوال

1) عید کے دن لوگوں کا مسجد میں  ایک دوسرے کو مبارک باد دینا اور معانقہ کرنا کیسا ہے؟ جبکہ  یہ کام رسم  سمجھ کے کرتے ہیں نہ کہ ثواب اور عبادت سمجھ کے ۔

2) عیدکے دن لوگ قبرستان جانے کا اہتمام کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟

3) اسی طرح  عید کے دن حسب ِِ استطاعت کوئی بکرا ذبح کرتا ہے کوئی مٹھائیاں تقسیم کرتا ہے اس کی کیا حیثیت ہے ؟

4) عید سے چند ماہ پہلے جس کے گھر فوتگی ہوئی ہو وہ عید کے دن خوشی نہیں مناتے اور اس شخص کی  فوتگی کا  غم مناتے ہیں ،ان کا یہ کرنا  کیسا ہے؟

5) عید کے دن جو عیدی دی جاتی ہے اس کا دینا کیسا ہے ؟

جواب

1)عید کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا یعنی عید مبارک کہنا خواہ مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر، یہ جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو یہ دعا دیتے تھے کہ «تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ»۔ لیکن ایسا کرنا  لازم یا واجب نہیں ؛  لہذا اس کو لازم اور ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے۔

باقی عید کے موقع پر عید کی مبارک باد دینے کیلے گلے ملنا  رسول اللہ ﷺ یا صحابہ سے ثابت نہیں؛  لہذا اس کو ثواب سمجھ کرگلے ملنا بھی بدعت ہے۔البتہ اگر کوئی لازم نہ سمجھتے ہوئے مل لے تو حرج نہیں۔

البتہ   عید کی نماز کے بعد تمام لوگوں  کا سلام پھیرتے ہی آپس میں گلےملنا شرعا ثابت نہیں نیز بعض اوقات مسجد کی بے ادبی باعث ہوتا ہے جس سے مسجد میں شور و شغب ہوتا ہے،  اس سے بچنا ضروری ہے۔

2)عید کا دن خوشی اور مسرت کا ہوتا ہے، بسااوقات  خوشی میں مصروف ہوکر آخرت سے غفلت ہوجاتی ہے اور زیارتِ قبور سے آخرت یاد آتی ہے، اس لیے اگرکوئی شخص عید کے دن  قبرکی زیارت کرے تومناسب ہے، کچھ مضائقہ نہیں؛ لیکن اس کو لازم اور ضروری سمجھنا   خواہ یہ  التزام  عملاً ہی سہی جس سے دوسروں کو یہ شبہ ہو کہ یہ چیز لازمی اور ضروری ہے، درست نہیں؛ نیز اگر کوئی شخص اس دن زیارتِ قبور نہ کرے تو اس پرطعن کرنا یا اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، اس حوالے سے احتیاط لازم ہے۔

3) عید کا دن خوشی کا دن ہوتا ہے،  اگر کوئی اپنی استعداد کے مطابق بکرا وغیرہ ذبح کرکے عزیزواقارب کی دعوت کرتا ہے یا مٹھائی تقسیم کرتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

4) شرعاًبیوہ کے علاوہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا کسی کیلئے جائز نہیں،  اگر وفات کو تین دن ہوچکے ہوں تو معمول کے مطابق عید کی خوشی اور دیگر امور انجام دینے چاہییں، چالیسویں اور پہلی عید وغیرہ تک سوگ منانے کی روایت غیر اسلامی ہے۔

5)لازم سمجھے بغیر محض خوشی کے اظہار کے لیے  بچوں کو عیدی دینے کی حیثیت تحفہ کی ہے۔

موطأ إمام مالك میں ہے: 

"عن زينب بنت أبي سلمة، أنها أخبرته هذه الأحاديث الثلاثة: قالت زينب: دخلت على أم حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي أبوها أبو سفيان بن حرب، فدعت أم حبيبة بطيب فيه صفرة خلوق أو غيره فدهنت به جارية ثم مسحت بعارضيها، ثم قالت: والله ما لي بالطيب من حاجة، غير أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر ‌أن ‌تحد ‌على ‌ميت ‌فوق ‌ثلاث ليال، إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا."

(باب ما جاء في الإحداد، ج:1، ص:661، ط:مؤسسة الرسالة)

شعب الإیمان للبیهقي میں ہے:

"عن أدهم مولی عمر بن عبد العزیز، قال: کنا نقول لعمر بن عبد العزیز في العیدین: «تقبل الله مناومنک یاأمیر المؤمنین»، فیرد علینا و لاینکر ذلک علینا".

( باب في الصیام في لیلة العیدین ویومها،ج:3، ص:345)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے: 

"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟"

  (کتاب الصلاۃ،  الفصل الأول،ج:3، ص:31 ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله لا تنكر) خبر قوله ‌والتهنئة وإنما قال كذلك لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة وعن مالك أنه كرهها، وعن الأوزاعي أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة ثم ساق آثارا بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية عيد مبارك عليك ونحوه وقال يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب لما بينهما من التلازم فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركا على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضا. اهـ"

(باب العیدین، ج:2، ص:169، ط:سعید)

فقط اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408101629

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں