بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عید الفطر کا چاند دیر سے نظر آنے کی وجہ سے وتر با جماعت کا حکم


سوال

رمضان کو وتر کی نماز جماعت سے پڑھ لی،پھر اسی رات سوا دس بجے پتا چلا کہ عید کا چاند نظر آگیا،تو وتر ہو گئی یا انفرادی دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ عشاء کی نماز اور تراویخ پڑھ لینے تک عید الفطر کے چاند کی رؤیت کا اعلان نہیں ہوپایا تھا؛ اس لیے لوگوں نے رمضان کے گمان پر تراویح اور وتر کی نماز باجماعت ادا کی اس لیے لوگوں کی وتر کی نماز بلا کراہت ادا ہوگئی ہے، اس وتر کی نماز کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ اگر پہلے سے چاند کا علم ہو تو پھر رمضان ختم ہوجانے کا علم ہونے کے باوجود وتر کی نماز جماعت سے ادا کرنا مکروہ ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:
"(ولايصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر، ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع نهر". (48/2) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں