بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عید گاہ میں کھیل کھود وغیرہ کا حکم


سوال

عید گاہ میں کرکٹ کا میچ کرانا ، گانا بجانا، ایسے ہی دوسرے غیر شرعی پروگرام کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ زمین عید  گاہ کے لیے وقف کی گئی ہے، تو  اس صورت میں اس میں کھیلنا مکروہ ہے،کیوں کہ مذکورہ صورت میں عید  گاہ کو واقف کےمقصد کے خلاف استعمال کرنا لازم  آتا ہے،لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے،اور اگر مذکورہ زمین وقف شدہ نہ ہو، بلکہ علاقے کی مشترکہ جگہ ہو جہاں عید کی نماز بھی ادا کی جاتی ہو یا کسی کی  مملوکہ زمین ہو،اور مالک  کی طرف سے مذکورہ جگہ میں کھیلنےکی اجازت بھی ہو،  تو پھر بچوں کا اس کھلی جگہ پر کھیلنا جائز ہے، تاہم گانا بجانا اور اسی طرح اور غیر شرعی امور کا ارتکاب کرنا کسی بھی جگہ جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) أما (المتخذ لصلاة جنازة أو عيد) فهو (مسجد ‌في ‌حق ‌جواز الاقتداء)وإن انفصل الصفوف رفقا بالناس (لا في حق غيره) به يفتى نهاية (فحل دخوله لجنب وحائض) كفناء مسجد ورباط ومدرسة ومساجد حياض وأسواق لا قوارع."

(کتاب الصلاۃ، ج:1 ص:657 ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."

( کتاب الوقف  مطلب  مراعاۃ غرض الواقفین واجب، ج:4، ص: 445، ط:سعيد )

وفيه ايضاً:

"‌شرط ‌الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة."

 (‌‌كتاب الوقف، مطلب في قولهم ‌شرط ‌الواقف كنص الشارع، ج:4، ص:433، ط:سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"واختلفوا في مصلى الجنازة والعيد فصحح في المحيط في مصلى الجنائز أنه ليس له حكم المسجد أصلا وصحح في مصلى العيد كذلك إلا في حق جواز الاقتداء وإن لم تتصل الصفوف."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، نقش المسجد، ج:2 ص:39 ط: دار الکتاب الإسلامي)

کفایت المفتی میں ہے:

’’عید گاہ میں بطور لہو ولعب کے فٹ بال کھیلنا اور کوئی اور کھیل کھیلنا مکروہ ہے۔‘‘

(کتاب الصلاۃ،ج3،ص186،ط؛دار الاشاعت)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144507100587

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں