بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

احرام کی حالت میں عورتیں سر کا مسح کس طرح کریں؟


سوال

احرام کی حالت میں عورتیں سر کا مسح کس طرح کریں؟

جواب

احرام کی حالت میں بھی خواتین کے لیے سر کے مسح کا حکم اور طریقہ وہی ہے جو عام حالت میں ہوتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں، یعنی دونوں ہاتھوں کو پانی سے گیلا کرنے کے بعد سر کے ابتدائی حصہ پر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں رکھ کر گردن تک ایسے طریقے سے لے جائے کہ اس سے تمام سر کا احاطہ ہو جائے، اور ان ہی ہاتھوں سے (اگر خشک نہ ہوگئے ہوں اور اگر خشک ہوگئے ہوں تو دوسری دفعہ پانی میں تر کر کے)  کانوں کا مسح اس طرح کرے کہ شہادت کی دونوں انگلیوں سے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح اور دونوں انگوٹھوں سے دونوں کانوں کے باہر کے حصہ کا مسح کرے۔

واضح رہے کہ احرام کی حالت میں عورت تنہائی میں سر سے چادر یا دوپٹہ دور کر سکتی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ومسح ربع الرأس مرة) ... (قوله: ومسح ربع الرأس) المسح لغة إمرار اليد على الشيء. وعرفا إصابة الماء العضو."

(کتاب الطہارۃ، ارکان الوضوء، جلد:1، صفحہ: 99، طبع: سعید)

فتح القدیر میں ہے:

"والمسنون في كيفية المسح ‌أن ‌يضع ‌كفيه وأصابعه على مقدم رأسه آخذا إلى قفاه على وجه يستوعب، ثم يمسح أذنيه على ما يذكره، وأما مجافاة السباحتين مطلقا ليمسح بهما الأذنين والكفين في الإدبار ليرجع بهما على الفودين فلا أصل له في السنة."

(کتاب الطہارۃ، جلد:1، صفحہ: 20، طبع: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102527

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں