بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

احرام کی حالت میں عورت کے چہرہ کا پردہ


سوال

 میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ حج کے دوران احرام میں عورت کے چہرے کے پردے کا کیا حکم ہے؟

2- اسی طرح عمرہ کے دوران احرام میں کیا حکم ہے؟

3- حج اور عمرہ میں احرام کی حالت میں چہرہ نہ ڈھاکنے میں گناہ تو نہیں ہوگا؟

4- اگر حج اور عمرہ میں پردہ کرنا چاہئیے تو کس طرح پردہ کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ احرام کی صورت میں چہرے پر کوئی کپڑا نہیں لگنا چاہئیے۔

جواب

یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ عورت کے لیئے نامحرموں سے پردہ کرنا ایک الگ حکم ہے اور حالت احرام میں چہرہ کو کپڑا لگنے سے بچانا الگ حکم ہے، حالت احرام میں دونوں احکام پر بیک وقت عمل کرنا ضروری ہےجو کہ ممکن ہے اور صحابیات کے زمانہ سے اس پر عمل بھی ہوتا چلا آرہا ہے، اب اس حکم کی انجام دہی کے لیئے عورت حسب سہولت کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرلے کہ پردہ بھی ہوجائے اور احرام کی پابندی پر عمل بھی، مثلا ایسے ہیٹ کا استعمال جس کے آگے چہرہ ڈھانپنے کے لیئےکپڑا لگا ہوا ہو یا گھونگھٹ کو اس طرح گرائے رکھنا کہ پردہ بھی ہو او کپڑا بھی چھرے پر نہ لگے وغیرہ۔ واضح رہے کہ احرام کی حالت میں بھی اجنبی مردوں سے پردہ نہ کرنا اسی طرح گناہ ہے جیسے عام حالات میں۔ اس لیئے احرام کی پابندی پر عمل اپنی جگہ ضروری ہے اور پردہ کی پابندی اور اہتمام اپنی جگہ لازم ہے ،دونوں میں کوئی ٹکراو نہیں ہے.حاصل یہ ہے کہ پردہ تو کرنا چاہیے،کیوں نفس و شیطان جیسے یہاں ساتھ ہیں وہاں بھی ہوتے ہیں،سلف صا لحین کی عورتیں اس زمانے میں پردے کے حکم پر اس طرح عمل کرتی تھیں کہ وہ خانہ کعبہ سے دور دور طواف کرتی تھیں اور ایسے وقت میں طواف کے لیے جاتی تھیں کہ مردوں کا ہجوم کم سے کم ہو،اب تو عورتیں مردوں کے ہجوم میں گھسنا کمال سمجھتی ہیں،یہ سب تفصیل تو اس صورت میں ہے کہ حالت احرام میں ہوں،احرام اتارنے کے بعد تو پردے کا حکم یہاں کی طرح ہے۔۲۔حج اور عمرے کے احرام کاایک ہی حکم ہے۔،۴،۳چہرا ڈھانپنے پر تو گناہ ہوگا،گناہ سے بچتے ہوئے پردہ کرنے کی تدبیر اوپر بتادی گئی ہے۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143406200014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں