بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اہل سنت والجماعت کون ہیں/ ایصال ثواب کا حکم/ بزرگان دین سے اولاد مانگنے کا حکم


سوال

1۔اہل سنت والجماعت  کسے کہتے ہیں؟

2۔اپنے مرحوم رشتہ داروں کی قبروں پر فاتحہ کی لیے جانا اہل سنت والجماعت کے ہاں جائز ہے؟اور کن لوگوں کے ہاں جائز نہیں ہے؟

3۔اپنے والدین اور رشتہ داروں کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کر سکتے ہیں، تو غائبانہ فاتحہ خوانی، یعنی گھر میں بیٹھ کر ان کے لیے ایصال ثواب کرنا کیسا ہے؟

4۔بزرگ ہستیاں مثلاً: عبداللہ شاہ غازی رحمہ اللہ ، اور ان جیسے جتنے بھی بزرگ ہیں،جو لوگ  اُن سے اولاد وغیرہ مانگتے ہیں، اُن کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔اہل سنت والجماعت سے مراد  وہ لوگ ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقہ پر گامزن ہیں، اور ان کے طریقوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں، اور یہ نام آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے ارشاد مبارک "ماأنا عليه وأصحابي"  سے لیا گیا ہے۔

2۔ ابتداء اسلام میں زمانہ جاہلیت کی باطل رسومات اور خرافات کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے سے منع فرما دیا تھا، لیکن جب لوگوں کی اصلاح ہوگئی تو پھرآپ نے لوگوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دے دی، اور عورتوں کو قبرستان جانے کی اجازت ہے یا نہیں اس میں یہ تفصیل ہے کہ عورتوں کے قبرستان میں جانے سے اگر غم تازہ ہو اور وہ بلند آواز سے روئیں تو ان کے لیے  قبرستان جانا  گناہ ہے؛ کیوں کہ حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے جو قبرستان جائیں تاکہ غم تازہ ہو ۔نیز چوں کہ ان میں صبر کم ہوتا ہے، اس لیے گھر ہی سے ایصال ثواب کرنا چاہیے۔

نیز اگر کوئی بوڑھی عورت عبرت اور تذکرہِ آخرت کے لیے قبرستان جائے تو اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ وہ جزع فزع نہ کرے، البتہ جوان عورت کے لیے تذکرہ موت و آخرت کی نیت سے جانے میں بھی کراہت ہے، جیساکہ نماز کے لیے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

3۔ واضح رہے کہ ایصال ثواب کے لیے قبروں پر جانا ضروری نہیں ہے، بلکہ غائبانہ طور پر بھی ایصال ثوا ب کرنا جائز ہے۔

4۔واضح رہے کہ بزرگان دین کے توسط اور وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا تو شرعاً جائز ہے، لیکن  براہ راست ان کی قبروں پر جاکر ان سے اولاد وغیرہ کا مطالبہ کرنا صریح شرک اور کفر ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ ."[النساء: 48]  

مرقاۃ المفاتیح میں ہے؛

"وقال الطيبي: الفاء متعلق بمحذوف، أي نهيتكم عن زيارة القبور، فإن المباهاة بتكثير الأموات فعل الجاهلية، وأما الآن فقد دار رحى الإسلام، وهدم قواعد زيارة الشرك، فزوروها فإنها تورث رقة القلب، وتذكر الموت والبلى، وغير ذلك من الفوائد."

(كتاب الجنائز، ج:4، ص:1255، ط:دارالفكر)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله وقيل تحرم على النساء إلخ) قال الرملي ‌أما ‌النساء ‌إذا ‌أردن ‌زيارة ‌القبور ‌إن ‌كان ‌ذلك ‌لتجديد ‌الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه حمل الحديث «لعن الله زائرات القبور» ، وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز ويكره إذا كن شواب كحضور الجماعة في المساجد."

(كتاب الجنائز، ج:2، ص:210، ط:دار الكتاب الاسلامي)

وفيه أيضاّ:

"قالوا: من هي؟) ، أي: تلك الملة، أي أهلها، الناجية (يا رسول الله؟ قال: (ما أنا عليه وأصحابي) .، أي: هي ما أنا عليه وأصحابي، قيل: جعلها عين ما هو عليه مبالغة في مدحها وبيانا لباهر اتباعها حتى يخيل إنها عين ذلك المتبع، أو المراد بـ (ما) الوصفية على حد {ونفس وما سواها} [الشمس: 7] ، أي: القادر العظيم الشأن سواها، فكذا هنا المراد هم المهتدون المتمسكون بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي، فلا شك ولا ريب أنهم ‌هم ‌أهل ‌السنة والجماعة."

(باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج:1ل، ص:259، ط:دار الفكر)

ہدایہ میں ہے:

"الأصل في هذا الباب أن الإنسان له ‌أن ‌يجعل ‌ثواب ‌عمله ‌لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها عند أهل السنة والجماعة لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عن أمته ممن أقر بوحدانية الله تعالى وشهد له بالبلاغ جعل تضحية إحدى الشاتين لأمته."

(باب الحج عن الغير، ج:1، ص:178، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308101488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں