بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایگل کریسٹ کمپنی کے کاروبار کا حکم


سوال

ہماری ایک کمپنی ہے، جس کا نام ایگل کریسٹ ہے، یہ کمپنی اپنے انویسٹرز کے ساتھ مل کر مختلف پروجیکٹ بناتی ہے اور آن لائن کاروبار کرتی ہے،  کاروبار کے نفع نقصان میں شراکت کے اصول کے ساتھ اپنے انویسٹرز کو ماہانہ کی بنیاد پر نفع دیتی ہے، کمپنی جو کاروبار کرتی ہے اسے عرفِ عام میں آن لائن کاروبار (ای کامرس) کہا جاتا ہے، اس مقصد کے لیے ہماری آن لائن ویب سائٹ ہے، جس کا نام(http://www.ecpmarket.com)  ہے، اس ویب سائٹ پر کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔

1)مختلف دکاندار اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے اس ویب سائٹ پر لگاتے ہیں، جب کوئی کسٹمر کسی پروڈکٹ کا آڈر دیتا ہے تو دکان دار وہ چیز ہمارے پاس بھیج دیتا ہے، پھر ہم اس کو پیک کر کے کمپنی کی مہر وغیرہ لگا کر گاہک کے پاس ارسال کردیتے ہیں اور جو قیمت حاصل ہوتی ہے اس سے اپنا طے شدہ کمیشن(جو کہ دو فیصد سے پچیس فیصد تک ہوتا ہے)  کاٹ کر بقیہ رقم دکان دار کو دے دیتے ہیں۔

2)لوگ ہمیں ہمارے کاروبار میں شریک ہونے کے لیے رقم دیتے ہیں، اس رقم سے ہم مصنوعات خریدتے ہیں اور ویب سائٹ کے ذریعے اسے فروخت کر کے نفع کماتے ہیں، مہینے کے بعد نفع نقصان کا حساب کیا جاتا ہے، سب سے پہلے اخراجات نکالے جاتے ہیں، پھر اس کے بعد نفع نقصان کا پتہ لگایا جاتا ہے، اگر کمپنی کو نقصان ہوا ہو تو نقصان کا پانچ فیصد انویسٹر برداشت کرتا ہے اور پچانوے فیصد نقصان کمپنی برداشت کرتی ہے، اور اگر نفع ہوا ہو  تو نفع کی تمام رقم انویسٹرز کے درمیان ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم کردی جاتی ہے یعنی کاروبار میں ہر انویسٹر کے سرمایہ کا جو تناسب ہوتا ہے، اس تناسب سے اس کو نفع دیا جاتا ہے،  نفع کی تقسیم میں ہماری انویسٹرز سے یہ بات طے ہوتی ہے کہ انویسٹر کو اس کے سرمایہ کے آٹھ فیصد سے زیادہ نفع نہیں دیا جائے گا،اگر اس سے زیادہ نفع ہوا تو وہ کمپنی کا حصہ ہوگا، نیز انویسٹر سے جو یہ بات طے ہوتی ہے کہ اس کو اس کے سرمایہ کے تناسب سے نفع ملے گا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نفع ہو یا نہ ہو، یا جتنا ہو ، اس کو ہر حال میں اس کے سرمایہ کے تناسب سے ضرور حصہ دیا جائے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نفع ہوا تو جتنا نفع ہوگا، وہ تمام انویسٹرز میں ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم کردیا جائے گا، جو ایک اندازے کے مطابق ان کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے حصے کا نفع تقریباً آپ کے سرمایہ کا ایک فیصد سے آٹھ فیصد ہوسکتا ہے، اور اس سے زیادہ ہوا تو کمپنی اپنے پاس رکھے گی، آپ کو زیادہ سے زیادہ آپ کے سرمایہ کا آٹھ فیصد حصہ ملے گا۔

کمپنی اپنے انویسٹرز سے جو معاہدہ کرتی ہے اس کی کاپی سوالِ ہذا کے ساتھ منسلک ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ ہمارے کاروبار کا مذکورہ بالا طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟

اگر اس میں سے کوئی طریقہ خلافِ شرع ہے تو اس کی نشان دہی کر کے اس کی جائز صورت سے مطلع فرمادیں۔

نیز معاہدہ کی کوئی شق اگر خلافِ شرع ہے تو اس کی بھی نشان دہی فرمادیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے کمپنی کے کاروبار کا جو پہلا طریقہ ذکر کیا ہے، اس میں اگر کمپنی، دکان دار اور کسٹمر کے درمیان رابطہ کرا کے سودا مکمل کراتی ہے تو ایسی صورت میں کمپنی کے لیے طے شدہ کمیشن لینا شرعاً جائز ہے۔

سائل نے کمپنی کے کاروبار کا جو دوسرا طریقہ ذکر کیا ہے وہ بنیادی طور پر درست ہے لیکن اس میں یہ شرط لگانا کہ انویسٹر اپنے سرمایہ کے پانچ فیصد سے زائد نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا، بلکہ اس سے زائد نقصان کمپنی برداشت کرے گی، شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ شرکت کا شرعی اصول یہ ہے کہ نفع تو باہمی رضامندی سے جس تناسب سے بھی ہو، طے کیا جاسکتا ہے،  لیکن نقصان کی صورت میں تمام شرکاء کاروبار میں اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان کے ذمہ دار ہوں گے، جس شریک کے سرمایہ کا جو تناسب کاروبار میں ہوگا وہ اسی تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، لہذا کمپنی اور انویسٹر کے معاہدے میں یہ بات طے ہونا ضروری ہے کہ نقصان کی صورت میں ہر ایک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان کا ضامن ہوگا۔

نیز کمپنی اور انویسٹر کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شق نمبر 6 بھی خلافِ شرع ہے، کیوں کہ شرکت میں ہر شریک کو شرعاً یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس وقت چاہے اپنی شرکت ختم کرکے الگ ہوسکتا ہے، شرکاء باہمی رضامندی سے کسی بھی متعین مدت تک شرکت برقرار رکھنے کا معاہدہ کرسکتے ہیں اور معاہدے کی پاسداری تمام شرکاء پر دیانۃً لازم  بھی ہوگی، لیکن اس مدت سے قبل شرکت سے الگ ہونے کی وجہ سے مالی جرمانہ عائد نہیں کیا جاسکتا، لہذا کمپنی کا یہ شرط لگانا کہ مدتِ معاہدہ مکمل ہونے سے پہلے رقم نکلوانے پر پچیس فیصد کٹوتی ہوگی، شرعاً غلط ہے، شرکت سے الگ ہونے کے وقت ہر شریک کا کاروبار میں جتنا سرمایہ موجود ہوگا، وہ پورا کا پورا اسے واپس کرنا ضروری ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

(فتاوی شامی، کتاب الاجارہ، باب الاجارۃ الفاسدہ، مطلب فی اجرۃ الدلال،ج: 6، ص: 63، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهمااشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز والشرط في حق الوضيعة باطل، فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي."

(فتاوی ہندیہ، کتاب الشرکۃ، الباب الثالث فی شرکۃ العنان، الفصل الثانی فی شرط الربح و الوضیعہ،ج: 2، ص: 320، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"في البحر عن البزازية: اشتركا واشتريا أمتعة ثم قال أحدهما لا أعمل معك بالشركة وغاب فباع الحاضر الأمتعة فالحاصل للبائع وعليه قيمة المتاع؛ لأن قوله لا أعمل معك فسخ للشركة معه وأحدهما يملك فسخها وإن كان المال عروضا، بخلاف المضاربة هو المختار."

( کتاب الشرکۃ، فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج: 4، ص: 327، ط: ایچ ایم سعید)

و فیہ ایضا:

"قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه."

( کتاب الحدود، باب التعزیر،ج: 4، ص: 61، ط: ایچ ایم سعید)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100547

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں