بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف توڑنے والی چیزیں


سوال

 اعتکاف  کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے ؟

جواب

درج ذیل امور سے  واجب اور مسنون اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے:

1۔ کسی  طبعی  یا شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا۔

2۔روزہ نہ رکھنا یا توڑدینا۔

3۔ حالتِ اعتکاف میں مباشرت کرنا۔

4۔ عورت اعتکاف میں ہو تو حیض و نفاس کا جاری ہو جانا۔

5۔ کسی عذر کے باعث اعتکاف گاہ سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹھہرنا۔

ان  باتوں کی تفصیل اور طویل تشریح کے لیے  "عمدۃالفقہ" ( مؤلف مولانا سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ  جلد: 3 ص:402-412)  کا مطالعہ کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(وأما شروطه) فمنها النية ۔۔۔ومنها الصوم۔۔۔(ومنها الإسلام والعقل والطهارة عن الجنابة والحيض والنفاس) ؛ لأن الكافر ليس من أهل العبادة والمجنون ليس من أهل النية والجنب والحائض والنفساء ممنوعون عن المسجد۔۔۔

(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط۔۔۔۔۔(ومن الأعذار الخروج للغائط والبول، وأداء الجمعة) فإذا خرج لبول أو غائط لا بأس بأن يدخل بيته ويرجع إلى المسجد كما فرغ من الوضوء، ولو مكث في بيته فسد اعتكافه، وإن كان ساعة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط۔۔۔۔(ومنها الجماع ودواعيه) فيحرم على المعتكف الجماع ودواعيه نحو المباشرة والتقبيل واللمس والمعانقة والجماع فيما دون الفرج والليل والنهار في ذلك سواء، والجماع عامدا أو ناسيا ليلا أو نهارا يفسد الاعتكاف أنزل أو لم ينزل، وما سواه يفسد إذا أنزل وإن لم ينزل لا يفسد هكذا في البدائع".

(کتاب الصوم ،الباب السابع فی الاعتکاف،ج:1،ص:211،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں