بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عیسائی منکوحہ کےساتھ نکاح کاحکم


سوال

ایک عیسائی مذہب کی عورت تھی، جو عیسائی کی منکوحہ تھی، اب وہ مسلمان کےساتھ بھاگ گئی، اورعیسائی شوہر سے حاملہ بھی ہے، دو بچے بھی ہیں، تو اب کیا کریں؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں عیسائی منکوحہ کےلیےمسلمان کےساتھ بھاگ جاناجائزنہیں ہے،فواًالگ ہوجاناضروری ہے،ہاں اگروہ شوہرسےطلاق لےلیتی ہے،توعدت گزارکرنکاح کرناجائزہوگا،یا اگروہ مسلمان ہوجاتی ہے،تواس کےعیسائی شوہرکواسلام کی دعوت دی جائےگی،اوراگروہ اسلام قبول کرلے،تودونوں کانکاح برقراررہےگا،اوراگروہ اسلام قبول کرنےسےانکارکرے،توعدت (جوکہ غیرِ حاملہ کی تین ماہواریاں ہیں،اورحاملہ عورت  کابچہ جننےتک کاعرصہ ہے)گزرنےکےبعد مسلمان کےلیےاس کےساتھ نکاح کرناجائزہوگا۔

الاختیارلتعلیل المختارمیں ہے:

"(لا يجوز أن يتزوج زوجة الغير ولا معتدته) ، قال - عليه الصلاة والسلام -: «ملعون من سقى ماءه زرع غيره» ، ولأن ذلك يفضي إلى اشتباه الأنساب. ولهذا لم يشرع الجمع بين الزوجين في امرأة واحدة في دين من الأديان. قال: (ولا يتزوج حاملا من غيره) ؛ لما ذكرنا."

(كتاب النكاح،فصل في المحرمات، ٢٧/٣،ط:مطبعة الحلبي - القاهرة)

الدرمع الردمیں ہے:

"(و) صح نكاح (حبلى من زنى لا) حبلى (من غيره) أي الزنى لثبوت نسبه ولو من حربي. . . (قوله: حبلى من غير إلخ) شمل الحبلى من نكاح صحيح أو فاسد أو وطء شبهة أو ملك يمين، وما لو كان الحبل من مسلم أو ذمي أو حربي (قوله:؛ لثبوت نسبه) فهي في العدة ونكاح المعتدة لا يصح ط (قوله: ولو من حربي) كالمهاجرة والمسبية. وعن أبي حنيفة أنه يصح وصحح الزيلعي المنع وهو المعتمدوفي الفتح أنه ظاهر المذهب بحر."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ٤٨/٣،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن ‌أسلمت المرأة وأبى الزوج وفرق تكون الفرقة طلاقا عند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - كذا في محيط السرخسي."

(كتاب النكاح، الباب العاشر في نكاح الكفار،٣٣٨/١،ط:ماجدية)

 مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"اہلِ کتاب کی لڑکی اگر موجودہ انجیل پر ایمان رکھتی ہے خواہ وہ محرف ہو یا حضرت  عیسیٰ کو نبی مانتی ہو خواہ وہ شرک کرے، یہی حال یہودی لڑکی کا ہے تو ان سے مسلمان کا نکاح جائز ہے، تاہم بہتر نہیں ہے، بصورتِ دیگر اگر یہودی یا نصرانی لڑکی دہریہ ہے،  اپنے نبی یا آسمانی کتاب کو نہیں مانتی تو اس سے مسلمان کا نکاح ناجائز و حرام ہے۔ "

(6 رجب المرجب 1399ھ)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502100392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں