بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ایڈوانس دینے کے تناسب سے مبیع کی قیمت میں کمی وبیشی کرنے کاحکم


سوال

 میں لوگوں کو دودھ بیچتا ہوں اور ایک باڑے والے سے دودھ خریدتا ہوں اور اس سے میرا معاہدہ کچھ اس طرح طے ہوتا ہے کہ میں اس سے کہتا ہوں مجھے روزانہ اتنا دودھ چاہیے تو وہ کہتا ہے کہ عام مارکیٹ ریٹ دودھ کا مثلا 6300 ہے ،لیکن چوں کہ میرا دودھ عمدہ ہے، اس لیے میں آپ کو 6600 کا دوں گا اور ہمارا معاہدہ ایک سال کا طے پاتا ہے، یعنی ایک سال کی بندی ہوتی ہے کہ میں ایک سال تک آپ سے دودھ خریدوں گا، چناں چہ اس معاملہ میں وہ مجھ سے 40 لاکھ ایڈوانس کا مطالبہ کرتا ہے ،اگر میرے پاس ایڈوانس دینے کے لیے اتنی رقم نہیں ہوتی تو میں کہتا ہوں کہ میں آپ کو 25 لاکھ مثلا ایڈوانس رکھواؤں گا تو وہ کہتا ہے کہ پھر دودھ کی قیمت 6700 روپے ہو جائے گی، چناں چہ اس طرح ہمارا معاہدہ طے پا جاتا ہے ،لیکن یہ ایڈوانس کی رقم اس لیے لی جاتی ہے کہ اگر میں سال کے درمیان میں یہ معاملہ چھوڑجاتا ہوں اور دودھ لینا چھوڑتا ہوں تو پھر وہ اپنے نقصان کی تلافی اس رقم سے کرے گا ،ہمارا یہ معاملہ شرعا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا باڑے والے  سے دودھ خریدنے کے معاہدہ کرتے وقت ،باڑے والے کی جانب سے یہ شرط لگانا کہ 40 لاکھ ایڈوانس رکھنے کی صورت میں 6600 روپے دودھ کی قیمت ہوگی ،اور 25 لاکھ رکھنے کی صورت میں دودھ کی قیمت 6700 ہوگی ،اس طرح دودھ خریدنے کا معاملہ جائز نہیں ہے؛اس لیے کہ دوھ کی خریدوفروخت کے معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا  جو معاملہ اس کا تقاضا نہ کرتاہو ،جائز نہیں ہے،نیز سائل کا سال درمیان دودھ لیناچھوڑنے کی صورت میں ایڈوانس کی رقم سےنقصان بھرنا بھی باڑوالوں کے لیے جائزنہیں ہے،کیوں ایڈوانس کی رقم امانت کے حکم میں ہے،اس میں کسی قسم کا تصرف کرناجائزنہیں ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

"ولو كان البيع بشرط لايقتضيه العقد وفي نفع لأحد المتعاقدين أي البائع والمشتري أو  لمبيع يستحق النفع بأن يكون آدميًّا فهو أي هذا البيع فاسد لما فيه من زيادة عرية عن العوض فيكون ربا وكل عقد شرط فيه الربا يكون فاسدًا."

(كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، فصل في بيع الملامسة والمنابذة، ج:2، ص:62، ط: داراحياء التراث العربي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فحكمه لزوم الحفظ للمالك لأن الإيداع من جانب المالك استحفاظ ومن جانب المودع التزام الحفظ وهو من أهل الالتزام فيلزمه لقوله: - عليه الصلاة والسلام - «المسلمون عند شروطهم» والكلام في الحفظ في موضعين: - أحدهما فيما يحفظ به - والثاني: فيما فيه يحفظ."

(كتاب الوديعة ، فصل في بيان حكم العقد الوديعة، ج:6،ص:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405100121

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں