بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران داماد کی فوتگی پر جانے کا حکم


سوال

ایک عورت کے  شوہر  کا ایک ماہ پہلے انتقال ہوا ، آج اس کی بیٹی کے  شوہر کواچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا، کیا وہ اپنے داماد کے  گھر میت کو دیکھنے جاسکتی ہے؟

نوٹ: بیوہ خاتون اٹک پنجاب میں رہتی ہے ،جب کہ بیٹی کا گھر چارسدہ پختون خواں  میں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کےلیے اپنے داماد کے انتقال پر اسے دیکھنے یا تعزیت پر جانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.

قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها.وأما الخروج للضرورة فلا فرق فيه بينهما كما نصوا عليه فيما يأتي، فالمراد به هنا غير الضرورة."

(كتاب الطلاق،باب العدة ،فصل :في الحداد،ج:3،ص:536،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403101403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں