بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عدت کے ابتداء کس حیض سے ہوگی؟


سوال

عورت کی عدت کے بارے میں سوال ہے کے اگر شوہر اپنی بیوی کو آج ایک طلاق دیتا ہے ،اگر  اس طلاق کے دوسرے دن اس عورت کو حیض آجائے تو کیا یہ حیض بھی عدت کے 3 حیضوں میں شمارہوگا یا اس حیض کے بعد پاکی سے عدت شروع ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق کے دوسرے  دن آنے والا حیض بھی عدت میں شمار ہوگا،کیوں کہ عدت طلاق دینے کےفوراً  بعد ہی  شروع ہوجاتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، و في الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدة، 1 / 532/ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402101010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں