بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عدت وفات اور غیر محرم سے پردہ


سوال

عورت شوہر کی وفات پر کتنے دن اور کیسے عدت گزارے گی اور کون سے محرم رشتے سے مل سکتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی عورت کے شوہر کااسلامی مہینے کی پہلی تاریخ کوانتقال ہوجائےتواس کی عدت(اسلامی مہینوں کے اعتبارسے)چارماہ دس دن ہے(خواہ مہینہ 30 دن کاہو یا29دن کاہو) اور اگر شوہر کاانتقال اسلامی مہینے کے درمیان میں ہو جائے(یعنی مہینے کی پہلی تاریخ کو نہ ہو)تو پھرعدت 130دن ہے ،یہ حکم اُس صورت میں ہے جب عورت حمل سے نہ ہو، اگر حمل سے ہو تو اس کی عدت وضعِ حمل (یعنی بچے کی ولادت) ہے اور یہ عدت شوہر کے انتقال ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے،اور عدت شوہر کے گھر گزارے گی۔

باقی پردہ صرف  عدّت  کے  ساتھ  خاص نہیں ہے، بلکہ عورت کے لیے نا محرم مردوں سے پردہ کرنا ہر حال میں ضروری ہے، چاہے  عدت میں ہو یا عام حالت میں ہو،   لہذا  عورت  کے لیے  نا محرموں سے  عدت کے دوران بھی پردہ کرنا ضروری ہے اور  عدت کے بعد بھی   ضروری ہے، اور محرم سے نہ عدت میں پردہ ضروری ہے، نہ عدت کے بعد ۔

نوٹ: نامحرم ان افراد کو کہا جاتا ہے، جن سے زندگی میں کسی بھی موقع پر نکاح حلال ہو، ایسے تمام افراد سے  پردہ فرض ہے، تفصیل درج ذیل ہے:

(1) خالہ زاد   (2) ماموں زاد   (3) چچا زاد   (4) پھوپھی زاد   (5) دیور     (6) جیٹھ   (7) بہنوئی   (8)نندوئی   (9) خالو     (10) پھوپھا   (11) شوہر کے چچا   (12)  شوہر کے ماموں   (13)شوہر کے خالو   (14)شوہر کے پھوپھا   (15) شوہر کا بھتیجا     (16) شوہر کا بھانجا ۔

محرم ان افراد کو کہا جاتا ہے، جن سے کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں نکاح حلال نہ ہو اور ایسے تمام افراد سے پردہ کرنا خواتین پر لازم نہیں، محارم ابدی کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)  باپ (2) بھائی (3)  چچا   (4) ماموں   (5) سسر   (6) بیٹا   (7)  پوتا در پوتا (8) نواسہ  در نواسہ (9) شوہر کا بیٹا   (10) داماد   (11) بھتیجا اور اس کے بیٹے  (12) بھانجا  اور اس کے بیٹے۔ (13) سوتیلا باپ (ماں کا شوہر) جب کہ والدہ اور اس کے مابین میاں بیوی کا تعلق قائم ہوجائے۔

باقی عدت سے متعلق مزید تفصیلی احکام کی معلومات کے لیے "احکام میت" حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت تھانوی کی "بہشتی زیور" کا مطالعہ مفید ہوگا۔

فتاوٰ ی ہندیہ میں ہے:

"عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولاً بها أو لا ... حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها، كذا في فتح القدير. هذه العدة لاتجب إلا في نكاح صحيح، كذا في السراج الوهاج. المعتبر عشر ليال وعشرة أيام عند الجمهور، كذا في معراج الدراية".

(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، 529/1،ط: رشيدية)

وفیه أیضًا:

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية".

(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، 531/1،ط: رشيدية)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين".

(کتاب الطلاق،باب العدة، 3/509، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101694

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں