بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ میں دکاندار کا مزید چارجز لینے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام درج ذیل مسئلہ سے متعلق کہ: ایزی پیسہ شاپ کیپر اپنے کسٹمر سے کسی بھی ٹرانزیکشن کی ،کمپنی کی جانب سے ملنے والے کمیشن کے علاوہ ایک خاص اضافی فیس (کیش کی شکل میں یا اکاؤنٹ سے ہی کٹوتی کی شکل میں) وصول کرتا ہے حالاں کہ کمپنی بھی کسٹمر سے ایک مخصوص سروس چارج وصول کر رہی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کمپنی پالیسی کے مطابق شاپ کیپر کسٹمر سے کسی قسم کےاضافی چارجز لینے کا مجاز نہیں ہوتا، بلکہ پہلے تو اطلاع ملنے پر کمپنی کی طرف سے کاروائی بھی ہو جایا کرتی تھی اور شاپ کیپر کا اکاونٹ بند کر دیا جاتا تھا، لیکن اب چونکہ کمپنی نے کمیشن آدھے سے بھی کم کر دیا ہے جس کی وجہ سے اضافی چارجز نہ لینے میں شاپ کیپر کانقصان ہے اور اکاؤنٹ بند کرنے میں کمپنی کا نقصان اس وجہ سے اب کمپنی بار بار کی شکایات کے باوجود بھی اکاؤنٹ بند نہیں کرتی اور پابندی کے باوجود اس معاملہ پر زیادہ توجہ نہیں دیتی، شاپ کیپرز اپنے اکاؤنٹ میں کسٹمرز کی سہولت کی غرض سے لاکھوں روپے رکھتے ہیں تاکہ کسی بھی وقت کسٹمر کو اس کی مطلوب سہولت، مطلوب مقدار کے ساتھ فراہم کی جا سکے، لہذا اگرصرف کمپنی کے کمیشن پر ہی اکتفاء کیا جائے تو منافع بہت کم رہ جاتا ہےاور چوں کہ کئی لوگوں کا تو روزگار ہی صرف اس کاروبار پر منحصر ہوتا ہے تووہ اگر اضافی چارجز نہ لیں تو ان کی محنت اور تگ ودو کا جائز حق بھی وصول نہ ہو بلکہ اس طور پر الٹا نقصان ہو کہ دوکان کا کرایہ اور دیگر ضروری اخراجات بھی نہ نکل سکیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ:

1. کیا یہ اضافی فیس شاپ کیپر کی سروسز کا چارج/ اجرت بن سکتی ہے؟

2. کسٹمر کو تو عموما 10، 20 روپے اضافی چارجز سے کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ شاپ کیپر کا اچھا خاصا بھلا ہو جاتا ہے،تو کیا اس بنیاد پر شاپ کیپر، کسٹمرسے شرعا اضافی چارجز (کیش کی شکل میں یا اکاؤنٹ سے کٹوتی کی شکل میں) وصول کر سکتاہے یا نہیں، اگرنہیں تو اس مسئلہ کے کسی شرعا جائز متبادل کی طرف رہنمائی فرما دیں تاکہ مملکتِ خداداد کے طول وعرض میں پھیلے، اس کاروبار سے منسلک افراد حرام آمدن سے بچ سکیں اور عوام الناس اس سہولت سے محروم نہ ہوں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایزی پیسہ میں کمپنی کی طرف سے دکان دار کو کسٹمر سے مزید چارجز لینے پر پابندی ہوتی ہے اور باقاعدہ کسٹمر کے پاس مزید چارجز نہ دینے کا میسیج بھی آتا ہے ،لہذا اس صورت میں کمپنی کے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے کسٹمر سے اضافی چارجز لینا جائز نہیں،  چاہے وہ رقم نکالنے کی صورت میں لیں یا  صارف کے اکاونٹ میں رقم سینڈ کروانے کی صورت میں لیں، جب کہ دوسرے کے اکاونٹ میں رقم سینڈ کرنے پر دکان دار سے رقم کی کوئی کٹوتی بھی نہیں ہوتی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(کتاب الاجارۃ ، باب الاجارۃ الفاسدۃ جلد ۶ ص: ۶۳ ط: دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144403102262

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں