بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 شعبان 1445ھ 03 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کے ذریعے سے زکات بھیجنا


سوال

اگر کوئی ایزی پیسہ پر دوسرے کو زکات کی رقم بھیجے مثلاً 1500 روپے بھیج دے اور وہ شخص اپنے اکاؤنٹ سے 1470 روپے نکالے اور 30 روپے بطور ٹیکس کمپنی کاٹ لے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اب 1500 روپے زکات ادا  ہوئی یا 1470 روپے۔

جواب

واضح رہے کہ زکات کی ادائیگی کے درست ہونے کے لیے مستحقِ زکات کو مالِ زکات کی تملیک کردینا ضروری ہے، اور تملیک کہتے ہیں کہ کسی چیز کو بلا عوض اس طور پر مالک بنادینا کہ مستحق زکات شخص اس چیز میں ہر قسم کا تصرف کرسکے، صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی ایزی پیسہ کے ذریعے سے زکات ادا کرتا اور سروس چارجز کے طور پر کچھ رقم کی کٹوتی ہوجاتی ہے تو جس کو زکات ادا کی گئی ہے، اسے جتنی رقم پہنچی ہے، بس اتنی ہی رقم کی زکات کی ادائیگی شمار ہوگی، ٹیکس کی مد میں جتنی رقم کی  کٹوتی ہوگی  اتنی زکات ادا نہیں ہوگی، بلکہ علیحدہ سے اتنی رقم بطورِ زکات دینا ضروری ہوگا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي."

(كتاب الزكات، ‌‌الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج: 1، ص: 170، ط: دار الفكر بيروت)

موسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

"التمليك مصدر ملكه الشيء إذا جعله ملكا له، وفعله الثلاثي (ملك) . وملك الشيء:احتواه، قادرا على الاستبداد به."

(حرف التاء، تمليك، ج: 14، ص: 24، ط: دار السلاسل)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407100956

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں