بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کے ذریعہ ٹرانزیکشن کرنے پر ملنے والے کیش بیک کا حکم


سوال

 ایزی پیسا کوئی ایک ٹرانزیکشن کرنے پر کیش بیک دیتی ہے،اس میں اگر اکاؤنٹ میں پیسے  زیادہ ہوں گے تو زیادہ  پیسے ملیں گے۔یہ کیش بیک لینا کیسا ہے؟

جواب

مذکورہ رقم قرض  کے بدلہ میں ملنے  والا  نفع  ہے جو  کہ شرعاً  سود  ہے، لہذا  یہ  رقم  لینا اور  اس کا  استعمال کرنا، دونوں ناجائز اور حرام ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک میں جامعہ کا فتوی دیکھیں :

ایزی پیسہ کا کیش بیک

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200552

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں