بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاونٹ میں 1000 روپے سے کم رکھنا / نماز جمعہ گھر پر پڑھنا


سوال

1: ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں 1000 سے کم رکھ  سکتے ہیں؟ کیش بیک کا کیا حکم ہے؟

2: نماز جمعہ گھر میں پڑھاسکتے ہیں؟

جواب

1 :  اگر ایزی پیسہ  اکاؤنٹ کھلوانا اس شرط کے ساتھ مشروط ہو کہ مخصوص رقم رکھنے پر اضافی منافع ملیں گے تو نفسِ اکاؤنٹ کھلوانا ہی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ  سود لینے یا دینے سے قطع نظر، یہ معاہدہ سودی ہے، اور جس طرح سود  کا لین دین ناجائز ہے، اسی طرح سودی معاہدہ کرنا بھی ناجائز ہے، خواہ سود  کی ادائیگی یا سود لینے سے خود کو بچایا جائے۔

البتہ اگر کوئی کمپنی  مخصوص رقم رکھنے پر مخصوص اضافی منافع کے ساتھ ایزی پیسہ اکاؤنٹ نہ کھولتی ہو تو اس کمپنی کا اکاؤنٹ کھلوانا اور محض رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی یا لوڈ کرنے کی حد تک استعمال کرسکتاہے۔

ہمارے ہاں ’’ایزی پیسہ‘‘ کے نام سے جو اکاؤنٹ معروف ہے، اسے  کھولتے وقت ہی ناجائز معاہدہ کرنا پڑتاہے،اس لیے  اس سے اجتناب کیا جائے۔

اس مسئلہ سے متعلق تفصیلی حکم جاننے کے لیے ذیل میں دیے گئے لنک کو کلک کریں:

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں ہزار روپے رکھے بغیر سہولیات ملنا یا ہزار روپے رکھنے کی صورت میں کچھ پیسوں کے عوض سہولیات ملنا

2 : جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ہی پڑھنی چاہیے، جمعہ کا قیام شعائرِ دین میں سے ہے، اس میں مسلمانوں شوکت کا اظہار بھی ہے، مسلمانوں کا جتنا بڑا مجمع جمع ہوکر خشوع و خضوع سے عبادت کرتاہے اور دعا کرتا ہے،  اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں بھی قبول فرماتے ہیں اور اپنی رحمت بھی نازل فرماتے ہیں، شیطان اس سے مزید رسوا ہوتاہے۔ بلاعذر گھروں میں جمعہ قائم کرنا مکروہ ہے۔فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ  ملاحظہ فرمائیں:

کیا جمعہ کی نماز گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟


فتوی نمبر : 144108200558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں