بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

دوسروں کے کپڑے پہننے سے ان کی عادتیں منتقل ہوتی ہیں یا نہیں؟


سوال

 اپنے کسی رشتہ دار کے بچے کے استعمال شدہ کپڑے اپنے بچے کو پہنانا کیسا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ اس بچے کی بُری عادات دوسرے بچے میں آ جائیں کپڑے پہننے کی وجہ سے؟ براہِ کرم جواب عنایت فرمادیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اپنے کسی رشتہ دار کے بچے کے استعمال شدہ کپڑے ان کی اجازت سے اپنے بچے کو پہنانا شرعاً درست ہے،اور محض دوسرے بچے کے  کپڑے اپنے بچے کو پہنانے سے ان کی بُری عادتیں منتقل نہیں ہوتیں  اور اس طرح کا عقیدہ رکھنا شرعاً درست نہیں ہے۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر أن رسول الله قال: لا عدوى ولا طيرة، وإنما الشؤم في ثلاثة المرأة والفرس والدار ... والمعنى الصحيح في هذا الباب نفي الطيرة بأسرها بقوله: لا طيرة، فيكون قوله عليه الصلاة والسلام: إنما الشؤم في ثلاثة بطريق الحكاية عن أهل الجاهلية؛ لأنهم كانوا يعتقدون الشؤم في هذه الثلاثة، لا أن معناه أن الشؤم حاصل في هذه الثلاثة في اعتقاد المسلمين، وكانت عائشة رضي الله تعالى عنها تنفي الطيرة ولا تعتقد منها شيئا حتى قالت لنسوة: كن يكرهن الابتناء بأزواجهن في شوال، ما تزوجني رسول الله إلا في شوال ولا بنى بي إلا في شوال، فمن كان أحظى مني عنده، وكان يستحب أن يدخل على نسائه في شوال...وهنا جواب آخر وهو أنه يحتمل أن يكون قوله الشوم في ثلاثة كان في أول الإسلام خبرا عما كان تعتقده العرب في جاهليتها على ما قالت عائشة ثم نسخ ذلك وأبطله القرآن والسنن وأخبار الآحاد لا تقطع على عينها وإنما توجب العمل فقط وقال تعالى قل لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا هو مولينا"

(باب مایذکر من شؤم الفرس: ج:14، ص: 150، ط: دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407102517

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں