بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کب درست ہے؟


سوال

میں  ایک جوائنٹ فیملی کاروبار کا حصہ ہوں،  لیکن آمدن یا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک پروجیکٹ کے لیے کوشش کر رہا ہوں اور اللہ سے دعا بھی کررہا ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں، لیکن مالی معاملات سے پریشان بھی ہوں۔ اب مجھے نکاح کا پیغام بھی ملا ہے، اچھا اور نیک رشتہ ہے اور میری بیوی بھی راضی ہے۔ نیت یہی ہے کہ اللہ پاک اس نکاح کی برکت سے معاملات میں آسانی اور برکت عطا فرمائے گا۔ کیا میں یہ نکاح کر لوں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ  مطہرہ میں مرد کو بیک وقت  چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے،  چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ (النساء:3)

ترجمہ: اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔

( بیان القرآن )

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کو ایک سے زائد چار تک شادیاں کرنے کی  اجازت  اس صورت میں  ہے جب وہ انصاف کر سکے، جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت  رکھتا ہو اور  اس میں بیویوں کے درمیان برابری کرنے کی اہلیت بھی ہو، لہذا اگر کسی شخص میں جسمانی یا مالی طاقت نہیں یا اسے خوف ہے کہ وہ دوسری شادی کے بعد برابری نہ کرسکے گا تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں. "سنن ابی داود"  میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى أحدهما جاء يوم القيامة وشقه مائل."

( سنن أبي داؤد 3 / 469)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی جانب جھک جائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب فالج زدہ ہوگی۔

مذکورہ بالا تفصیل کے پیش نظر اگر آپ دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتے ہیں اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق خوش اسلوبی سے برابری کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں تو آپ کے لیے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے۔

البتہ اگر آپ کے پاس دوسری شادی کے لیے  مالی یا جسمانی طاقت نہیں یا دوسری شادی کے بعد  دونوں بیویوں میں برابری نہ کرسکنے کا غالب گمان ہو  تو آپ کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں