بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں دوسری جماعت اور قرآن خوانی کی مختلف صورتوں کا حکم


سوال

1۔ایک مسجد کے اندر دو بار جماعت کرنا  جس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :

الف ۔مسجد میں جماعت ہوگئی پھر ایک جماعت آئی اور دوسری جماعت کھڑی کی اور امام صاحب وہی  کھڑے ہوگئے  جہاں پہلی جماعت کے امام کھڑے ہوئے تھے مثلا محراب میں ۔

ب۔دوسری جماعت آئی اور امام وہاں کھڑے ہوئے جہاں پر پہلی جماعت کی آخری صف پہنچی تھی۔

ج۔دوسری جماعت کرانے والے حضرات قلیل ہوں ،مثلا دو سے چار افراد ہوں ۔

د۔دوسری جماعت مسجد کے حدود سے باہر ہو  لیکن مسجد کی چاردیواری کے اندر کھڑی ہو ۔

مذکورہ چاروں صورتوں کاحکم بتلادیں۔

2۔قرآن خوانی برائے ایصال ِ ثواب اور اس کے بعد کھانا کھلانے کی مختلف صورتیں :

الف۔قرآن خوانی کرانے کی نیت ایصالِ ثواب ہو،اور اس کے بعد ایصالِ ثواب کی نیت سےکھانا کھلایا ۔

ب۔قرآن خوانی ایصال ِ ثواب کی نیت سے کرائی گئی اور پھر اس کے بعد بغیر کسی نیت کے کھانا کھلایا گیا ۔

ج۔قرآن خوانی مختلف نیتوں کے ساتھ کرائی گئی  ، مثلا تجارت ،گھر بار  اور رزق وروزی کی برکت کے لیے   اور اس کے بعد کھانا کھلایا۔

د۔  گھر میں برکت کی نیت سے قرآن خوانی کرائی گئی اور اس کے بعد بطور ِ اکرام یا دعوت کھانا کھلایا گیا ۔

ھ۔ ایصال ِ ثواب  کےلیے قرآن خوانی کرائی    گئی  اور سب  (قارئین وغیر قارئین ) کو کھانا کھلایا گیا۔

مذکورہ تمام صورتوں کے  تسلی بخش جوابات عنایت فرمادیں۔

جواب

1۔واضح رہے کہ محلہ کی  ایسی  مسجد جس میں امام، مؤذن مقرر ہوں اور نمازی معلوم ہوں، نیز  جماعت کے اوقات بھی متعین ہوں  اور وہاں پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو تو ایسی مسجد میں ایک مرتبہ اذان اور اقامت کے ساتھ  محلے والوں/ اہلِ مسجد  کے  جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلینے کے بعد دوبارہ نماز کے لیے جماعت کرانا مکروہِ  تحریمی ہے، دوسری جماعت  سے لوگوں کے دلوں سے پہلی جماعت کی اہمیت وعظمت ختم ہوجائے گی اور اس  سے پہلی جماعت کے افراد  بھی کم ہوجائیں گے اور بہت سے لوگ  اس وجہ سے پہلی جماعت میں شرکت سے سستی کریں گے کہ دوسری جماعت میں شریک ہوجائیں گے، جب کہ   شریعتِ مطہرہ  میں  جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے  کی بڑی فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ اور نماز کی جماعت میں کثرت  مطلوب ہے، جب کہ ایک سے زائد جماعت کرانے میں کثرت کی بجائے تفریق ہے۔

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ اسی نوعیت کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

’’جس مسجد میں کہ پنج وقتہ جماعت اہتمام وانتظام سے ہوتی ہو ،اس میں امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جماعت ثانیہ مکروہ ہے؛ کیوں کہ جماعت دراصل پہلی جماعت ہے،اور مسجد میں ایک وقت کی فرض نما زکی ایک ہی جماعت مطلوب ہے،حضورِ انورﷺکے زمانہ مبارک اور خلفائے اربعہ وصحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں مساجد میں صرف ایک ہی مرتبہ جماعت کا معمول تھا، پہلی جماعت کے بعد پھر جماعت کرنے کا طریقہ اوررواج نہیں تھا، دوسری جماعت کی اجازت دینے سے پہلی جماعت میں نمازیوں کی حاضری میں سستی پیدا ہوتی ہے اور جماعت اولیٰ کی تقلیل لازمی ہوتی ہے ؛ اس لیے جماعت ثانیہ کو حضرت امام صاحبؒ نے مکروہ فرمایا اور اجازت نہ دی۔اور جن ائمہ نے اجازت دی انہوں نے بھی اتفاقی طور پر جماعتِ اولیٰ سے رہ جانے والوں کو اس طور سے اجازت دی کہ وہ اذان واقامت کا اعادہ نہ کریں اور پہلی جماعت کی جگہ بھی چھوڑ دیں تو خیر پڑھ لیں ،لیکن روزانہ دوسری جماعت مقرر کرلینا اور اہتمام کےساتھ اس کو ادا کرنا اور اس کے لیے تداعی یعنی لوگوں کو بلانااور ترغیب دینا یہ تو کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ،نہ اس کے لیے کوئی فقہی عبارت دلیل بن سکتی ہے ،یہ تو قطعاً ممنوع اور مکروہ ہے‘‘.

(کفایت المفتی ،جلد سوم ، ص:140،کتاب الصلوۃ ،دارالاشاعت)

لہذا سوال میں مذکورہ   تین  صورتوں میں   جماعت ثانیہ راجح قول کے مطابق مکروہ ہے ۔اور چوتھی صورت میں اگر کبھی کبھار جماعت اولی رہ جانے کی وجہ سے جما عت ِ ثانیہ  مسجد کی حدود سے باہر  کرائی گئی ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔البتہ مستقل طور پر ایسا معمول بنانا مکروہ ہے۔

قرآن خوانی اگر  ایصال ِثواب یا طاعتِ مقصودہ کے  لیےہو اور کھانا کھلانا   اجرت کے طور پر ہو تو ناجائز ہے اور اگر صدقہ خیرات کےطور پر ہو یا عمومی دعوت کے طور پر ہو،قرآن خوانی کی اجرت کے طور پر نہ ہوتو جائزہے ، لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ قرآن خوانی کے بعد کھانا کھلانے کومعمول بنا لیا گیا ہے اور پڑھنےوالوں کےدل  میں بھی  عام طور پر  یہ بات ہوتی ہے کہ اس کے پڑھنے کے بعد کھانا کھلایا جائے گا، اور نہ کھلانے کی صورت میں بعض لوگ  ناراضگی کا اظہار بھی کرتے ہیں ، اس لیے  اس کے  من وجہ اجرت  کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اور قرآن خوانی اگر  ایصال ِثواب یا طاعتِ مقصودہ کے  بجائے علاج،دکان یا مکان وغیرہ میں برکت یا کسی اور دنیوی مقصد کے لیے ہوتو ان صورتوں میں کھانا کھلانا   یا  اس کی اجرت دینا اور لینا جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ  میں مذکورہ پانچ صورتوں میں سے تیسری  اور چوتھی صورت میں  مطلقا کھاناکھلانا جائز ہے اور باقی تین  صورتوں میں اگر قرآن خوانی کی اجرت کے طور پر ہو تو ناجائز ہے اور اگر صدقہ خیرات کےطور پر ہو یا عمومی دعوت کے طور پر ہو  تو جائزہے ۔

مجمع الزوائد میں حدیث ہے:

"عن أبي بكرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أقبل من نواحي المدينة يريد الصلاة فوجد الناس قد صلوا فمال إلى منزله فجمع أهله فصلى بهم."

مجمع الزوائد (2/ 173)

ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم    نواحی مدینہ سے نماز کے لیے مسجد کی طرف آرہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم    نے دیکھا کہ لوگ نماز ادا کر چکے ہیں ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   گھر آگئے اور گھر والوں کو جمع کیا اور  انہی کے ساتھ نماز ادا کی یعنی جماعت کرائی۔

 مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن الحسن، قال: «كان أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، إذا دخلوا المسجد وقد صلي فيه صلوا فرادى»."

مصنف ابن أبي شيبة (2/ 113)

 ترجمہ :اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم    جب ایسی مسجد میں داخل ہوتے جہاں جماعت ہو چکی ہوتی، تو وہ الگ الگ نماز ادا کرتے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن.(قوله: ويكره) أي تحريمًا؛ لقول الكافي: لايجوز، والمجمع: لايباح، وشرح الجامع الصغير: إنه بدعة، كما في رسالة السندي. (قوله: بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا ونصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولًا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعًا، كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجًا فوجًا؛ فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة، كما في أمالي قاضي خان اهـ ونحوه في الدرر، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر وغيرها."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)(1/ 552):

مبسوط سرخسی میں ہے:

"(ولنا) أنا أمرنا بتكثير الجماعة، وفي تكرار الجماعة في مسجد واحد تقليلها؛ لأن الناس إذا عرفوا أنهم تفوتهم الجماعة يعجلون للحضور؛ فتكثر الجماعة، وإذا علموا أنه لاتفوتهم يؤخرون؛ فيؤدي إلى تقليل الجماعات، وبهذا فارق المسجد الذي على قارعة الطريق؛ لأنه ليس له قوم معلومون فكل من حضر يصلي فيه، فإعادة الجماعة فيه مرةً بعد مرة لاتؤدي إلى تقليل الجماعات".

المبسوط للسرخسي(1/ 135):

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن التکرار یؤدی إلی تقلیل الجماعة لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة فیستعجلون فتکثرالجماعة، وإذا علموا أنها لا تفوتهم یتأخرون فتقل الجماعة وتقلیل الجماعة مکروه".

(بدائع،کتاب الصلاة، فصل في بیان محل وجوب الأذان۱/۱۵۳)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويؤيده ما في الظهيرية: لو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى فيه أهله يصلون وحداناً وهو ظاهر الرواية اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)(1/ 553):

فتاوی  شامی میں ہے:

"وقد قال العلماء : إن القارئ إذا قرأ لأجل المال فلا ثواب له فأي شيء يهديه إلى الميت ، وإنما يصل إلى الميت العمل الصالح ، والاستئجار على مجرد التلاوة لم يقل به أحد من الأئمة ، وإنما تنازعوا في الاستئجار على التعليم ا هـ."

رد المحتار(2/ 296):

 وفیہ ایضا:

"قوله ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله - عليه الصلاة والسلام - «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به»."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)(6/ 55)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں