بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دنیاوی کام کو نماز کہنے کے بارے میں شرعی نقطہ نظر


سوال

غلطی سے نماز کوکسی دنیاوی کام سے تشبیہ دے دینا میں ایک دنیاوی کام کر رہا تھا اور میں نے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص کو کہا کہ آپ کے پاس چپل نہیں ہیں تو اس نے کہا کہ کیا کر رہے ہو نماز پڑھ رہے ہو (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ہم وضو کرتے وقت چپل پہنتے ہیں) ،تو میں نے اسے جواب میں کہہ دیا کہ ہاں بڑی نماز پڑھ رہا ہوں اور میں وہ کام کر رہا تھا۔ کیا میرا یہ جملہ کفریہ ہے نیز اگر یہ کفریہ جملہ ہے تو اس سے تجدید ایمان اور نکاح ضروری ہے؟

جواب

صورت مسئولہ کے مطابق  کسی دنیاوی کام کو نماز کہنا اگر چہ انتہائی نامناسب ہے  تاہم اس کی وجہ سے کفر  لازم نہیں ہوتا جب تک نماز کی تو ہین مقصود نہ ہو ۔

حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:

"ومعظم شعار الله أربعة: القرآن، والكعبة، والنبي، والصلاة."

(باب تعظيم شعائر الله تعالى، ج:1، ص:133، ط: دار الجيل)

الموسوعۃ الفقیہ میں ہے:

"الشعائر: جمع شعيرة: وهي العلامة: مأخوذ من الإشعار الذي هو الإعلام، ومنه شعار الحرب وهو ما يسم العساكر علامة ينصبونها ليعرف الرجل رفقته.

وإذا أضيفت شعائر إلى الله تعالى فهي: "أعلام دينه التي شرعها، الله فكل شيء كان علما من أعلام طاعته فهو من شعائر الله". فكل ما كان من أعلام دين الله وطاعته تعالى فهو من شعائر الله، فالصلاة، والصوم والزكاة والحج ومناسكه ومواقيته، وإقامة الجماعة والجمعة في مجاميع المسلمين في البلدان والقرى من شعائر الله، ومن أعلام طاعته ...الخ"

(شعائر، التعريف، ج:26، ص:97،  ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قالوا لو وجد سبعون رواية متفقة على ‌تكفير ‌المؤمن ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها."

(كتاب الطهارة،  ج:1، ص:81، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدًا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافًا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به."

(باب المرتد، ج: 4، ص: 222، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503100298

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں