بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

دنیا وآخرت میں کامیابی کے اعمال


سوال

 اگر کوئی انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے کون سے اعمال کرنا ضروری ہیں،  قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے قرآنِ مجید  وسنتِ نبویہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے، اور عمل کے لیے علم ضروری ہے، لہٰذا سائل کو چاہیے کہ مستند و متدین علماءِ کرام کی صحبت میں رہے، اور ان سے دینی احکام سیکھ کر ان پر عمل کرتا رہے، ان شاء اللہ دین پر چلنا  آسان  ہوجائے گا اور کامیابی  بھی نصیب ہوگی۔

باقی قرآنِ مجید میں کل سات اعمال کو دنیا وآخرت میں کامیابی کا ذریعہ بتلایا گیا ہے، اگر ان سات باتوں پر عمل کیا جائے تو انسان دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجائےگا، جیسے سورۃ المؤمنون کی درجِ ذیل آیات میں ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ (2) وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (3) وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ (4) وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنْ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الْعَادُونَ (7) وَالَّذِينَ هُمْ لأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (8) وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (9) أُوْلَئِكَ هُمْ الْوَارِثُونَ (10) الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (11)

ترجمہ:  بالتحقیق ان مسلمانوں نے آخرت میں فلاح پائی۔جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔ اور جو لغو باتوں سے (خواہ قولی ہوں یا فعلی) پر کنار رہنے والے ہیں۔ اور جو (اعمال و اخلاق میں) اپنا تزکیہ کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرم گاہوں کی (حرام شہوت رانی سے) حفاظت رکھنے والے ہیں۔ لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے) کیونکہ ان پر (اس میں) کوئی الزام نہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا) طلبگار ہو  ایسے لوگ حدِ (شرعی) سے نکلنے والے ہیں۔  اور جو اپنی (سپردگی میں لی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔  اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔  (پس) ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔  جو فردوس کے وارث ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

(سورۃ المؤمنون، رقم الآیۃ:1-11، ترجمہ:بیان القرآن)

مذکورہ آیات میں سات اعمال کا ذکر ہے:

1: خشوع وخضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی:

2:لغو کاموں سے دوری:

لغو اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لا حاصل ہو، یعنی جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو، ہر فضول بات اور کام سے بچنا چاہیے قطع نظر اس کے کہ وہ مباح ہو یا غیرمباح، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کا اسلام اسی وقت اچھا ہوسکتا ہے جبکہ وہ بے فائدہ اور فضول چیزوں کو چھوڑدے۔  

3: زکوۃ کی ادائیگی:

یہ دین کا ایک اہم فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر صاحب نصاب مسلمان پر لازم ہے۔

4: شرمگاہوں کی حفاظت:

اللہ تعالیٰ نے جنسی خواہش کی تکمیل کا ایک جائز طریقہ یعنی نکاح مشروع کیا ہے۔ انسان کی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ ہم جائز طریقہ کے علاوہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اس آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میاں بیوی کا ایک دوسرے سے شہوتِ نفس کو تسکین دینا قابلِ ملامت نہیں، بلکہ انسان کی ضرورت ہے، لیکن جائز طریقہ کے علاوہ کوئی بھی صورت شہوت پوری کرنے کی جائز نہیں ہے۔

5:امانت کی ادائیگی:

امانت کا لفظ ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اُٹھائی ہو اور اس پر اعتماد وبھروسہ کیا گیا ہو، خواہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے۔ حقوق اللہ سے متعلق امانت فرائض وواجبات کی ادائیگی اور محرمات ومکروہات سے پرہیز کرنا ہے اور حقوق العباد سے متعلق امانت میں مالی امانت کا داخل ہونا تو مشہور ومعروف ہے۔ اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی کو بتلائی تو وہ بھی اس کی امانت ہے، اذنِ شرعی کے بغیر کسی کا راز ظاہر کرنا امانت میں خیانت ہے۔ اسی طرح کام کی چوری یا وقت کی چوری بھی امانت میں خیانت ہے، لہٰذا ہمیں امانت میں خیانت سے بچنا چاہیے۔

6: عہد پورا کرنا:

عہد ایک تو وہ معاہدہ ہے جو دو طرف سے کسی معاملہ میں لازم قرار دیا جائے، اس کا پورا کرنا ضروری ہے، دوسرا وہ جس کو وعدہ کہتے ہیں، یعنی کوئی شخص کسی شخص سے کوئی چیز دینے کا یا کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرلے، اس کا پورا کرنا بھی شرعاً ضروری ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ اگر ہم کسی شخص سے کوئی عہد وپیمان کرلیں تو اس کو پورا کریں۔

7:نماز کی پابندی:

کامیاب ہونے والے وہ ہیں جو اپنی نمازوں کی بھی پوری نگرانی رکھتے ہیں، یعنی پانچوں نمازوں کو ان کے اوقات پر اہتمام کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت وتاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوںسے روک دیتی ہے، مگر ضروری ہے کہ اس پرپابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط وآداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لیے ضروری ہیں۔

 خلاصہ تفسیر:

بالتحقیق ان مسلمانوں نے (آخرت میں) فلاح پائی جو (تصحیح عقائد کے ساتھ صفات ذیل کے ساتھ بھی موصوف ہیں یعنی وہ) اپنی نماز میں (خواہ فرض ہو یا غیر فرض) خشوع کرنے والے ہیں اور جو لغو (یعنی فضول) باتوں سے (خواہ قولی ہوں یا فعلی) برکنار رہنے والے ہیں اور جو (اعمال و اخلاق میں) اپنا تزکیہ کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی (حرام شہوت رانی سے) حفاظت رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے) کیونکہ ان پر (اس میں) کوئی الزام نہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا) طلبگار ہو ایسے لوگ حد (شرعی) سے نکلنے والے ہیں اور جو اپنی (سپردگی میں لی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہد کا (جو کسی عقد کے ضمن میں کیا ہو یا ویسے ہی ابتداءً کیا ہو) خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی (فرض) نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس (بریں) کے وارث ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

(ماخوذ از معارف القرآن لمفتی محمد شفیع رحمہ اللہ، سورۃ المؤمنون، رقم الآیۃ: 1-11، ج:6، ص:293، ط:مکتبہ معارف القرآن)

لہٰذا جو مسلمان ان سات ہدایات قرآنی پر اہتمام سے عمل کرے گا، باقی ضروری اعمال اس کی زندگی میں خود بخود آجائیں گے، ان شاء اللہ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں