بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دنیا آخرت کی کھیتی ہونے کا مطلب


سوال

دنیا آ خرت کی کھیتی ہے ،اس کا کیا مطلب ہے ؟

جواب

دنیا  کاآخرت کی کھیتی  ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کسان جب اپنی کھیتی پر محنت کرتا ہے ،تو اس وقت اس کو اس کھیتی سے ملنے والا کوئی اناج اور پھل نظر نہیں آرہا ہوتا ،بلکہ پھر بھی وہ اس زمین پرخوب  محنت کرتا ہے ،تو بالآخر جو اس نے بویا ہوتا ہے ، وہ اپنی محنت کے بقدر اس کا پھل پالیتا ہے ،یہی حال دنیا کا ہے ،کہ یہاں پر انسان جیسی محنت کرے گا،تو اگرچہ فی الوقت اس کو اپنی محنت کا ثمرہ نہیں نظر آرہا ،لیکن آخرت میں وہ اپنی محنت کے بقدر اس کا بدلہ پالے گا،اور اگر دنیا میں نیک اعمال کیے ہوں گے ،تو آخرت میں اس کا انعام ملے گا،اور اگر دنیا میں اللہ کی نافرمانی کی ہوگی ،اور اللہ کو ناراض کرنے والےاعمال کیے ہوں  گے ،تو اس کو آخرت میں اس کی سزا ملے گی۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

"(وعن المستورد بن شداد قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " والله) : قسم للمبالغة في تحقق الحكم (ما الدنيا) : " ما " نافية أي: ما مثل الدنيا من نعيمها وزمانها (في الآخرة) أي: في جنبها ومقابلة نعيمها وأيامها (إلا مثل) : بكسر الميم ورفع اللام، وفي نسخة بنصبها، وما في قوله: (ما يجعل أحدكم) : مصدرية أي: مثل جعل أحدكم (أصبعه) : وفي الجامع: بزيادة هذه، والظاهر أن المراد بها أصغر الأصابع (في اليم) أي: مغموسا في البحر المفسر بالماء الكثير (فلينظر) أي: فليتأمل أحدكم (بم يرجع) أي: بأي: شيء يرجع أصبع أحدكم من ذلك الماء، واعلم أن قوله يرجع ضبط بالتذكير في أكثر الأصول. وفي بعض النسخ بالتأنيث وهو الأظهر، لأن ضميره يرجع إلى الأصبع وهو مؤنث، وقد يذكر على ما في القاموس، والمعنى فليتفكر بأي مقدار من البلة الملتصقة من اليم يرجع أصبعه إلى صاحبه، اللهم إلا أن يقال المعنى بم يرجع الحال وينتقل المآل؟ وحاصله أن منح الدنيا ومحنها في كسب الجاه والمال من الأمور الفانية السريعة الزوال، فلا ينبغي لأحد أن يفرح ويغتر بسعتها، ولا يجزع ويشكو من ضيقها، بل يقول في الحالتين: «لا عيش إلا عيش الآخرة» ! فإنه قاله صلى الله عليه وسلم مرة في يوم الأحزاب، وأخرى في حجة الوداع وجمعية الأصحاب، ثم يعلم أن الدنيا مزرعة الآخرة، وأن الدنيا ساعة فيصرفها في الطاعة."

(کتاب الرقاق،ج:8،ص:3225،رقم :5156،ط:دار الفکر)

الكوكب الدري على جامع الترمذي میں ہے :

"وتمام ذلك أن ‌الدنيا ‌مزرعة ‌الآخرة وفيها التجارة التي يظهر ربحها في الآخرة، فمن استعمل فراغه وصحته في طاعة الله فهو المغبوط، ومن استعملهما في معصية الله فهو المبغون، لأن الفراغ يعقبه الشغل، والصحة يعقبها السقم ولو لم يكن إلا الهرم."

(‌‌أبواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،ج:3،ص:227،ط:مطبعة ندوة العلماء الهند)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501101398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں