
کیا دنبے کی کھال سے بنی جائے نماز پر نماز پڑھنی چاہیے؟
واضح رہے کہ کسی بھی پاک چیز پر نماز پڑھناجائز ہے، صورت مسئولہ میں دنبے کی کھال کو اگر دباغت دی گئی ہو، یعنی نمک یا کیمیکل وغیرہ سے کھال کو دباغت دی گئی ہو،تو یہ کھال پاک ہے،اور اس کو جائے نماز کے طور پر استعمال کرنا ،اوراس پر نماز پڑھنا جائز ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
" رواية ابن عباس قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «أيما إهاب دبغ فقد طهر» وفي صحيح مسلم «إذا دبغ الإهاب فقد طهر» ، وهو حديث حسن صحيح وما رواه البخاري ومسلم في صحيحيهما عن ابن عباس - رضي الله عنهما."
(البحر الرائق، کتاب الطھارة، مطلب إستعمال جلد الفیل إذا دبغ، ج:1 ص:110 ط: دار الکتاب الإسلامي)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144408102010
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن