بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دلہن کا وکیل اس کا بھائی بن سکتا ہے


سوال

دلہن کے وکیل کے طور پر بھائی کو نامزد کیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص عاقل بالغ ہو اور اسے جس کام کا وکیل بنایا جائے اس کا اہل ہو تو اسے وکیل بنانا جائز ہے؛ لہذا اگر  دلہن کا بھائی عاقل، بالغ ہو تو اسے دلہن کی طرف سے وکیل بنانا نہ صرف جائز ہے، بلکہ کسی نامحرم کو وکیل بنانے سے بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202201415

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں