بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1445ھ 14 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دلہا کا اپنا نکاح خود پڑھانا


سوال

 کیا دلہا اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے۔اور اسلام میں والد یا بھائی کا خطبہ نکاح دینا کیسا ہے؟

جواب

دلہااپنا نکاح خود بھی پڑھاسکتا ہے، اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ  مجلسِ نکاح میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں خطبہ میں پڑھی جانے والی آیات اور ایک دو احادیث بطورِ خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد جس خاتون سے نکاح ہورہا  اس کے وکیل سے کہے  کہ میں نے اتنے مہر کے بدلہ آپ کی موکلہ فلانہ بنت فلاں سے نکاح کیا  (یا اسی خاتون سے کہیں کہ میں نے اتنے مہر کے بدلہ آپ سے نکاح کیا)اور وہ جواب میں کہے کہ میں نے قبول کیا تو نکاح ہوجائے گا۔

نیز خطبہ نکاح کوئی بھی پڑھ سکتا ہے؛ لہذا بھائی اپنے بھائی کا اور   بیٹا اپنے والد کے دوسرے نکاح کا خطبہ  پڑھ سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں