بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

دکان کی حدود سے باہر رکھا گیا سامان اگر کسی سے ضائع ہوجائے تو اس کا حکم


سوال

دوکان کے باہر تجاوزات یعنی فٹ پاتھ یا روڈ وغیرہ پر آج کل جو لوگوں نے اپنی دوکان کا سامان مثلا دودھ والے نے دودھ کی ٹنکی یا کریانے والے نے جھاڑؤں کا ڈبہ رکھا ہوتا ہے اگر وہ کسی شخص سے غلطی سے ہلاک ہوجائے مثلا گاڑی نے ٹکر مار دی تو کیا اس گاڑی والے پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ اگر ضمان نہیں آئے گا تو اگر لے لیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کسی سے کسی کی دکان سے باہر والی جگہ  (جو دکان کے مالک کی ملکیت نہیں)پر لگایا گیا سامان ضائع (ہلاک) ہو جائے تو ہلاک کرنے والے پر ضمان لازم ہو گا۔

تاہم دکان کے باہر والا حصہ جو دکان کے مالک کی ملکیت نہیں ہے اس پر سامان لگانے سے  لوگوں کو تکلیف کا سامنا ہوتا ہے، اور آمد رفت میں خلل واقع ہوتا ہے؛  لہذا دکان کی حدود سے باہر  اس طور پر سامان لگانا جائز نہیں ہے۔

 درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے:

" أما لو أتلف مالا آخر بلا استعارة كان ضامنا والحكم في الوديعة على هذا المنوال أيضا كما وضح في شرح المادة".

(ج: 2، صفحہ: 302، رقم المادۃ: 960، ط: دار الكتب العلمية لبنان/ بيروت)

المحيط البرهانی میں ہے: 

"وسئل أبو القاسم عمن يبيع ويشتري في الطريق قال: إن كان الطريق واسعاً ولا يكون في قعوده ضرر للناس فلا بأس، وعن أبي عبد الله القلانسي أنه كان لا يرى بالشراء منه بأساً وإن كان بالناس ضرر في قعوده، والصحيح هو الأول؛ لأنه إذا علم أنه لا يشتري منه لا يبيع على الطريق فكان هذا إعانة له على المعصية وقد قال الله تعالى: {ولا تعاونوا على الاثم والعدوان}  وبعض مشايخنا قالوا: لاتجوز له العقود على الطريق وإن لم يكن للناس في قعوده ضرر ويصير بالقعود على الطريق فاسقاً؛ لأن الطريق ما اتخذ للجلوس فيه إنما اتخذ للمرور فيه".

(الفصل الخامس والعشرون: في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة وما جاء فيها من الرخصة، ج: 7، صفحہ: 140، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100601

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں