بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

دکانداروں کو مختلف اشیاء پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم


سوال

 میری ایک پینٹ کی دکان ہے اس میں میں نے دو مختلف رنگ کمپنی کے مال رکھے ہیں ایک کا نام ڈائمنڈ ہے اور دوسرے کا نام سپارکو پینٹ ہے دونوں پاکستانی کمپنیاں ہیں دونوں کمپنیاں اپنے دکانداروں کو ریٹیل پرائس پر مال دیتے ہیں دونوں کمپنیاں انوائس پر 15 فیصد ڈسکاؤنٹ دیتی ہیں مگر باقی ڈسکاؤنٹ دونوں اپنے مختلف طریقے سے دیتے ہیں ڈائمنڈ پینٹ باقی ڈسکاؤنٹ جو لگاتے ہیں وہ پورے سال میں جتنی سیل کی ہو یعنی (جتنا مال لیا  )ہو اس پر لگاتے ہیں اور سپارکو پینٹ ڈسکاؤنٹ جو لگاتے  ہیں وہ پورے سال میں جتنے پیسے دیے ہوں اس پر لگاتے ہیں یعنی اگر مال سپارکو پینٹ سے  ستر لاکھ روپے (7000000)کا آیا ہو اور پورے سال میں پیسے کیش پچاس لاکھ دیے ہوں تو وہ یعنی سپارکو پینٹ ڈسکاؤنٹ پچاس لاکھ پر لگاتے ہیں  نہ کہ کہ ستر لاکھ مال پر۔

برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں کہ آیا اس میں کوئی سود والا معاملہ تو نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مختلف کمپنیاں اپنی اشیاء  اور مصنوعات کی جانب لوگوں کو راغب کرنے کے لیے خریداروں  کو مختلف شکلوں میں رعایت(ڈسکاؤنٹ وغیرہ) دیتی ہیں،یہ رعایت ان کی صوابدید پر موقوف ہے،اس لئے وہ جس شکل میں اور جس صورت میں چاہیں اپنے خریدار کو اپنی مرضی سے رعایت( ڈسکاؤنٹ ) دے سکتے ہیں، باقی اس کو سودا کرتے وقت شرائط میں شامل نہ کریں تو اس میں کوئی سودی معاملہ نہیں ہوگا۔لہذا صورت مسئولہ میں پہلی کمپنی(ڈائمنڈ)اپنی سیل یعنی خریداری کو بڑھانے پر رعایت دے رہی ہے جب کہ دوسری کمپنی(اسپار کو)رقم کی جلد ادائیگی کرنے پر ڈسکاؤنٹ دے رہی ہے،دونوں صورتیں شرعا جائز ہیں۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المادة 356) حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح ومعتبر مثلا لو بيع مال بمائة قرش ثم قال البائع بعد العقد حططت من الثمن عشرين قرشا كان للبائع أن يأخذ مقابل ذلك ثمانين قرشا فقط إن هبة البائع مقدارا من الثمن المسمى للمشتري أو حطه مقدارا منه عنه أو إبراءه من بعضه بعد العقد صحيح ومعتبر سواء أكان المبيع قائما أم هالكا حقيقة أم حكما."

(کتاب البیوع،‌‌الباب الرابع بيان المسائل المتعلقة في الثمن والمثمن بعد العقد،ج1،ص241،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100588

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں