بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دکان دار کتنے منافع کا حق دار ہے؟


سوال

دکان دار کتنے منافع کا حق دار ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے خرید و فروخت کی صحت کا مدار عاقدین کی باہمی رضامندی پر رکھا ہے اور منافع کے حوالہ سے کسی قسم کی پابندی یا حد مقرر نہیں کی، بلکہ اس معاملہ کو عرف پر چھوڑ دیا ہے، تاہم تاجر کو اس بات کا پابند بھی کیا ہے کہ وہ کسی کی مجبوری کا غلط فائدہ نہ اٹھائے اور یہ اسلامی معاشیات کی اہم خوبی ہے۔

مسند احمد میں ہے:

"عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اﷲِ سَعِّرْ! فَقَالَ: بَلْ أَدْعُو، ثُمَّ جَاءَ هُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اﷲِ سَعِّرْ! فَقَالَ: بَلْ اﷲُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ، وَإِنِّي لَاَرْجُو أَنْ أَلْقَی اﷲَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ".

( ٢/ ٣٣٧، رقم الحديث: ٣٤٥٠، ط: موسسة قرطبة مصر)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اشیاء) کے نرخ مقرر فرما دیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں دعا کروں گا، پھر ایک شخص نے آکر عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! بھاؤ مقرر فرما دیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بھاؤ گھٹاتا اور بڑھاتا ہے اور میں یہ آرزو رکھتا ہوں کہ اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں کہ میں نے کسی پر بھی زیادتی نہ کی ہو۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عَنْ أَنَسٍ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اﷲِ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ: إِنَّ اﷲَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَی اﷲَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْکُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ". (٣ / ٢٧٢، رقم الحديث: ٣٤٥١)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے شکایت کی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھاؤ بہت چڑھ گئے ہیں، لہٰذا ہمارے لیے نرخ مقرر فرما دیجیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، وہی رزق کی تنگی اور کشادگی کرتا ہے، اور میں یہ تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کسی کا مجھ سے مطالبہ نہ ہو، جانی یا مالی زیادتی کا۔

لہذا  معاملات میں باہمی رضامندی سے جتنا نفع طے کرلیا جائے وہ لینا جائز ہوگا، البتہ بازار کے متعارف منافع سے زائد منافع رکھنا مناسب نہیں۔ نیز ابتدا میں جو قیمت طے کرلی جائے اس سے زائد رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا،  نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر بنیادی غذائی اشیاء کا بحران ہو تو ان کی قیمت بڑھا چڑھا کر لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے سے  کراہت مزید بڑھ جائے گی۔

شرح المجلہ میں ہے:

"الثمن المسمی هو الثمن الذي یسمیه و یعنیه العاقدان وقت البیع بالتراضي سواء کان مطابقًا لقیمة الحقیقیة أو ناقصًا عنها أو زائدًا علیها".

(شرح المجلة للرستم، ص:73)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن اشتری شیئًا و أغلی في ثمنه فباعه مرابحةً علی ذلك جاز، وقال أبویوسف: إذا زاد زیادةً لایتغابن الناس فیها فإني لا أحب أن یبیعه مرابحةً حتی یبیّن ، و الأصل أنّ عرف التجار معتبر في بیع المرابحة".

(الفتاوی الهندیة، ج:3،ص:161،ط:رشیدیة)

ابوداؤود میں ہے:

"قد نهی النبي ﷺ عن بیع المضطر".

(سنن أبي داؤود، ج:2،ص:164،ط:مکتبه امدادیه ملتان)

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله: بیع المضطر هو أن یضطر الرجل إلی طعام أو شراب أو لباس أو غیرها ولایبیعها البائع إلا بأکثر من ثمنها بکثیر، وکذلك في الشراء منه".

(رد المحتار علی الدر المختار،ج:5،ص:59:ط:ایچ ایم سعید)

نیل الاوطار میں ہے:

" وَقَدِ اسْتُدِلَّ بِالْحَدِيثِ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهُ عَلَى تَحْرِيمِ التَّسْعِيرِ وَأَنَّهُ مَظْلِمَةٌ وَوَجْهُهُ أَنَّ النَّاسَ مُسَلَّطُونَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَالتَّسْعِيرُ حَجْرٌ عَلَيْهِمْ وَالْإِمَامُ مَأْمُورٌ بِرِعَايَةِ مَصْلَحَةِ الْمُسْلِمِينَ وَلَيْسَ نَظَرُهُ فِي مَصْلَحَةِ الْمُشْتَرِي بِرُخْصِ الثَّمَنِ أَوْلَى مِنْ نَظَرِهِ فِي مَصْلَحَةِ الْبَائِعِ بِتَوْفِيرِ الثَّمَنِ وَإِذَا تَقَابَلَ الْأَمْرَانِ وَجَبَ تَمْكِينُ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ الِاجْتِهَادِ لِأَنْفُسِهِمْ وَإِلْزَامِ صَاحِبِ السِّلْعَةِ أَنْ يَبِيعَ بِمَا لَا يَرْضَى بِهِ مُنَافٍ لِقَوْلِهِ تَعَالَى إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تراض وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ جُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ".

(نیل الاوطار 5/248)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144203200860

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں