بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

دکاندار کا مالک دکان کو بتائے بغیر مخصوص کمپنی کا مال بیچنے پر کمیشن لینے کا حکم


سوال

ایک سٹور کامالک ہے جومختلف کمپنیوں سےمال خریدتاہےکمپنی اس سٹورکےملازم سےکہتی ہےکہ اگرآپ ہماری  کمپنی کی اشیاءگاہگ کودیں گےتواس کےبدلےمیں ہم آپ کواتنی فی صد یااتنی رقم کمیشن دیں گے، اسی طرح سٹور کامالک جب نئی اشیاء منگواتاہے تو وہ اپنے اجیر کو خریداری کےلیےبھیجتا ہے، کمپنی اس اجیر (ملازم) سےکہتی ہےکہ اگر آپ اپنی مطلوبہ اشیاءتھوڑی تھوڑی کے بجاۓ اکٹھی خرید لیں تو آپ کواتنے فی صدیارقم کمیشن دیں گے، اجیر اورکمپنی کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کامالک کوعلم نہیں ہوتا،ایساکرناشرعاکیساہے؟

جواب

1 : صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اسٹور کے  ملازم کے لیے اپنے مالک کے علم میں لائے بغیر کمپنی سے معاہدہ کرکے خفیہ کمیشن وصول کرنا ناجائز ہے؛ کیوں کہ ملازم   اپنے مالک کی طرف سے وکیل ہے اور وکیل امین (امانت دار) ہوتا ہے جس کے ذمے تمام معاملات کی آگاہی اپنے مؤکل  کو دینا ہوتی ہے،  نیز  جب کہ ملازم اپنے عمل کا معاوضہ اپنی اجرت کی صورت میں بھی لیتا ہے؛ لہذا ملازم  اپنے کام کی  جو اجرت  مالک سے  لے رہا ہے، اس کے علاوہ اس طرح خفیہ طور پر کمپنی سے کسی عنوان سے   کمیشن وصول کرنا رشوت ہے جو کہ ناجائز ہے۔ تاہم اگر ملازم  اپنے مالک کے علم میں لاکر یہ عمل کرلے اور اس کا مالک اسے اجازت دے دے تو یہ صورت جائز ہے۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: ‌الوكيل ‌أمين على المال الذي في يده كالمستودع."

(الكتاب الحادي عشر الوكالة، الباب الثالث، الفصل الأول، المادة :1463، 561/3، ط:دارالجيل)

معارف القرآن میں تفسیر بحر محیط کے حوالہ سے درج ہے :

’’جس کام کا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا یا جس کام کا چھوڑنا اس کے ذمہ لازم ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا رشوت ہے‘‘۔

(ج۵ / ص:۳۹۷، ط: ادارۃ المعارف کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408101304

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں