بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دکان یا مکان کی ایڈوانس رقم پر زکاۃ


سوال

کرایہ کے مکان یا دکان کے لیے جو ایڈوانس دیا ہو، اس پر زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

بوجۂ ضرورت و عرف کرایہ کے مکان یا دکان کے لیے ایڈوانس رکھوانا جائز ہے،  اور یہ رقم دکان یا مکان کے مالک کے پاس بطورِ امانت ہوگی اوراس کااصل مالک کرایہ دارہی ہوتا ہے؛ لہذا اس کی زکاۃ کرایہ دار کے ذمہ ہے جو اس پر مذکورہ رقم کی وصولی کے بعد دینا لازم ہوگی، تاہم اگر زکاۃ کا سال پورا ہوجائے تو وصولی سے پہلے بھی اس کی زکاۃ ادا کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے