بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دکان پر ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے ایک شریک کا تنخواہ لینے کا حکم


سوال

میری ایک دکان ہے، جس میں ہم چار پارٹنر  (شریک) ہیں، میں دکان پر ڈیوٹی دیتا ہوں جس کی مجھے بیس ہزار روپے الگ سے تنخواہ ملتی ہے، اب مجھے کسی نے بتایا ہے کہ شراکت والے کاروبار میں کسی ایک شریک کا تنخواہ لینا جائز نہیں ہے؟ براہ مہربانی آپ راہنمائی فرمائیں کہ میرے لیے یہ تنخواہ لینا کیسا ہے؟

 

جواب

ایک شریک کا دیگر شرکاء کے لیے اجیر بننا درست نہیں ہے، یعنی کاروبار میں شریک شخص کے لیے مشترکہ کاروبار میں کام کرکے اپنے طے شدہ نفع کے  علاوہ الگ سے تن خواہ لینا جائز نہیں ہے، چاہے دیگر پارٹنر (شرکاء) اس پر راضی ہی کیوں نہ ہوں؛ لہٰذا آپ کا مشترکہ کاروبار والی دکان پر ڈیوٹی دے کر تنخواہ لینا جائز نہیں ہے، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ چوں کہ دکان پر ڈیوٹی دیتے ہیں اس لیے تمام شرکاء کی باہمی رضامندی سے نفع میں آپ کا حصہ (فیصد کے اعتبار سے) دیگر (کام نہ کرنے والے) پارٹنرز کے مقابلہ میں کچھ زیادہ مقرر کر لیا جائے، مثلاً: پہلے اگر 25، 25 فیصد کا تناسب تھا تو آپ کا فیصدی تناسب بڑھادیا جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو استأجره ليحمل له نصف هذا الطعام بنصفه الآخر لا أجر له أصلا لصيرورته شريكا۔۔۔ (ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له) ؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر (كراهن استأجر الرهن من المرتهن) فإنه لا أجر له لنفعه بملكه۔۔۔ (قوله: فلا أجر له) أي لا المسمى ولا أجر المثل زيلعي؛ لأن الأجر يجب في الفاسدة إذا كان له نظير من الإجارة الجائزة وهذه لا نظير لها إتقاني، وظاهر كلام قاضي خان في الجامع أن العقد باطل؛ لأنه قال: لا ينعقد العقد".

(کتاب الإجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، ج:۶ ؍ ۵۷ ،۵۸ ،۶۰ ، ط:سعید )

و فیه أیضاً:

"وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضاً على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لايصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله". (کتاب الشرکة، مطلب في شرکة العنان، ج:۴ ؍۳۱۲، ط:سعید )

امداد الاحکام میں ہے:

" کیا شریک اجیر بن سکتا ہے؟ اور اس کے جواز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟ الخ

جواب:۱۔درست نہیں۔

جواب:۲۔ان کے واسطے نفع میں زیادہ حصّہ مقرر کردیا جائے، مثلا ان کی رقم ۴؍۱  کی نسبت رکھتی ہے، اور ان کو نفع میں سے ۳؍۱ دیا جائے تو یہ جائز ہے"۔

(کتاب الاجارۃ، ج:۳ ؍۶۱۴، ۶۱۵، دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں