بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

دکان میں تجارتی سامان ادھار لینے کی صورت زکوٰۃ کا حکم


سوال

میری ایک چھوٹی سی دوکان ہے،کل مالیت ایک لاکھ تک ہوگی،مشکل سے اپنا گزر بسر ہورہا ہے،سیل والوں سے ادھار سامان لیتا ہوں،  پھر آہستہ آہستہ ادا کرتا ہوں، بچوں کے بسکٹ پاپڑ سویٹس وغیرہ۔سوال یہ ہے کہ مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دکان کی مالیت پر  زکات لازم نہیں ہوتی، البتہ دکان میں موجود تجارتی سامان اگر نصاب کے بقدر ہوتو اس کی قیمتِ فروخت پر  زکات لازم ہوتی ہے،  اور  زکات کے حساب میں قرض لی ہوئی رقم جس کی ادائیگی ذمہ میں واجب ہوتی ہے  دیگر قابلِ زکاۃ اموال سے منہا ہوتی ہے، یعنی مثلاً اگر کوئی شخص اپنی ملکیت کے تمام  قابلِ زکات اثاثوں کے ساتھ  تمام تجارتی مال کے قابلِ فروخت   سامان کا جائزہ لے کر مارکیٹ میں  قیمتِ فروخت کے حساب سے اس کی مالیت کی تعیین کرے ،  اور اس میں سے اپنے اوپر واجب الادا اخراجات مثلاً جو ادائیگیاں باقی ہیں یا  دیگر قرض وغیرہ  ہیں ان کو منہا (مائنس) کرے، تو اگر اس کے بعد بھی اس کے پاس اتنی مالیت بچے جو نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی  قیمت)کے بقدر ہو  تو   اس کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد  زکات ادا کرنا ہوگا۔اگر  قرضہ یا واجب الادا اخراجات اتنے زیادہ ہوں کہ انہیں منہا کرنے کے بعد اتنی رقم نہیں بچے، تو پھر اس پر  زکات لازم نہیں ہوگی۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ ادھار مال خریدتے ہیں اور اور ادھار کی رقم نکالنے کے بعد آپ کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بقدر مال یا تجارتی سامان نہیں ہے تو  آپ پر  زکات لازم نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں